کارٹون تنازعہ، مغرب اور اسلامی دنیا کے روابط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کارٹون بحران سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان کتنی بڑی خلیج ہے۔ اس سے مسلم دنیا میں بذات خود کئی مختلف نظریات کی نشاندہی ہوئی ہے اور یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مغربی دنیا کے اپنے اندر کس قدر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر ہم ان حالات و واقعات پر نظر ڈالیں جن کے تحت یہ تنازعہ پھیلا ہے تو ہمیں اس میں وہ تمام لمحات نظر آئیں گے جن کے بعد صورتحال نے بتدریج گھمبیر رخ اختیار کرنا شروع کیا تھا۔ در اصل یہ تنازعہ تیس ستمبر سے بھی پہلے شروع ہوگیا تھا۔ تیس ستمبر ہی کو متنازعہ کارٹون ڈنمارک کے اخبار جے لینڈز پوسٹن میں شائع ہوئے تھے۔ اور یہیں ہمیں اس معاملے کے بارے میں پہلی تفریق بھی نظر آتی ہے۔ اپریل 2003 میں ڈنمارک کے ایک کارٹونسٹ کرسٹوفر زیلر نے اسی اخبار کے لیےحضرت عیسٰی کے کارٹون بنانے کی پیشکش کی تھی، جس پر اخبار کے مدیر نے جواب دیا تھا ’میرا نہیں خیال کہ جے لینڈز پوسٹن پڑھنے والے افراد ایسی ڈرائنگ سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ میرا اندازہ ہے کہ ایسی اشاعت سے سخت رد عمل بھی سامنے آسکتا ہے۔ اسے وجہ سے میں ایسے کارٹون استعمال نہیں کروں گا‘۔ لیکن اس وقت ایسا کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا گیا جب اسی اخبار نے پیغمبر اسلام کے خاکے اس وقت تیار کرنے کا ارادہ کیا جب ایک خاتون ادیب کو اپنی ایک کتاب کے لیے اسلام سے متعلق خاکے نہیں مل رہے تھے۔ تاہم پھر بھی خاکے بنانے والوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، جس کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں، ایک تو یہ کہ شاید وہ جانتے تھے کہ ایسے خاکے بنانا اسلام میں جائز نہیں ہے یا پھر انہیں ڈر تھا کہ اس پر شدید ردعمل ہوسکتا ہے۔ ستمبر میں متنازعہ کارٹون شائع ہونے کے بعد مسلم دنیا کی طرف سے فوری ردعمل سامنے آیا جس کے ساتھ ہی یہ معاملہ ایک عالمی معاملہ بن گیا۔ امام رائد الہلاہل نے الجزیرہ چینل کو ایک انٹرویو میں کہا ’ایسی جمہوریت مسلمانوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی اور مسلمان کبھی بھی یہ توہین برداشت نہیں کریں گے‘۔ جس پر اخبار کے مدیر کارسٹن جسٹ کا جواب تھا ’ہم جمہوریت میں رہتے ہیں اور طنزومزاح ہمارے ملک میں برداشت کیا جاتا ہے اور خاکے بنانے پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ آزادی اظہار کی راہ میں مذہبی رکاوٹیں نہیں کھڑی کرنی چاہئیں‘۔ اس وقت تک یہ تنازعہ ڈنمارک تک محدود تھا۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرز فو رسمسان نے نہ صرف اس معاملہ میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا بلکہ گیارہ عرب سفیروں سے ملنے سے بھی انکار کردیا۔ 17 اکتوبر کو ایک اور واقعہ ہوا۔ ان کارٹونوں میں سے چھ ایک مصری اخبار الفجر میں دوبارہ سے شائع کیے گئے۔ اخبار میں کہا گیا تھا کہ یہ کارٹون استعال انگیز ہیں اور مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج سامنے آئے گا۔ اس مرحلے تک بھی کوئی خاص عوامی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ڈنمارک کے مسلمان مسلسل اس کوشش میں تھے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس جانب متوجہ کیا جائے۔ دسمبر میں ڈنمارک کے ایک معروف امام ابو لبان ایک وفد کے ساتھ مشرق وسطٰی گئے جہاں مسلمان علماء سے انہوں نے ملاقاتیں کی۔ وہ اپنے ساتھ شائع ہونے والے کارٹونوں کے علاوہ مزید تین ڈرائنگز بھی لے کر گئے تھے جو اگرچہ شائع تو نہیں ہوئی تھیں لیکن مسلمانوں کو بھیجی گئی تھیں۔ یہ تصاویر مزید توہین آمیز تھیں۔ دسمبر میں مکہ میں او آئی سی کے اجلاس میں یہ مسئلہ اجاگر کیا گیا، ایک ایسے مقام پر جس کا پیغمبر اسلام سے گہرا تعلق ہے۔ او آئی سی کے شرکاء نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت پر تشویش ظاہر کی اور توہین رسالت کے اس واقعے کی مذمت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آزادی اظہار کو مذہب کی توہین کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس مسئلے نے اب سیاسی رخ اختیار کرنا شروع کردیا اور 26 جنوری کو سعودی عرب نے اپنے سفیر کو ڈنمارک سے واپس بلالیا۔ مشرق وسطٰی میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ ادھر مغربی دنیا نے زور دینا شروع کیا کہ اس معاملے پر تحمل سے کام لیا جائے۔ تنازعہ کو اس وقت مزید ہوا ملی جب آزادی ظہار کا پرچار کرنے والے چند یورپی ممالک نے ان کارٹونوں کو دوبارہ شائع کردیا۔ 31 جنوری کو ڈنمارک کے اخبار نے اپنے کیے پر معافی مانگ لی جس سے وہ پہلے گریز کرتا رہا تھا۔ اب تک مظاہروں در مظاہروں سے مغرب اور اسلامی دنیا کے تعلقات کی نزاکت سامنے آگئی ہے۔ ایک طرف اسلامی دنیا اس واقعے کو شدید ذلت آمیز تصور کرتی ہے تو دوسری جانب مغربی دنیا مسلمانوں کے رد عمل کو ’حد سے زیادہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی دنیا میں بذات خور کئی نظریات پائے جاتے ہیں۔ کچھ تو نہایت مشتعل ہیں اور احتجاجی مظاہروں، اشتعال انگیز نعروں اور پلے کارڈز سے اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں تو دوسری جانب کچھ اعتدال پسند ہیں جو اس معاملے پر درگزر میں یقین رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان بھر میں شدید احتجاج 14 February, 2006 | پاکستان کارٹون اور اظہارِ رائے کی آزادی11 February, 2006 | قلم اور کالم ’برطانوی مسلم اشتعال پسند نہیں‘11 February, 2006 | آس پاس کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام11 February, 2006 | پاکستان یہ کارٹون جعلی ہے: کارٹونِسٹ14 February, 2006 | آس پاس پاکستان بھر میں شدید احتجاج 14 February, 2006 | پاکستان کارٹون کی اشاعت پر ایڈیٹر گرفتار12 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||