’برطانوی مسلم اشتعال پسند نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے مسلمانوں نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹون چھاپنے کے خلاف سنیچر کے روز لندن میں مظاہرہ کیا ہے جس میں انہوں نے کوئی اشتعال انگیز پلے کارڈ نہیں اٹھا رکھا تھا۔ یورپ کے بعض ملکوں میں پیغمبر اسلام کے کارٹون چھپنے کے بعد برطانوی مسلمانوں نے پہلے بھی ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر پولیس کئی مظاہرین کے خلاف کارروائی کا سوچ رہی ہے۔ برطانوی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم کونسل آف بریٹن کے زیر اہتمام ہونے والے اس مظاہرے میں چار سو پچاس تنظیموں نے حصہ لیا۔ مسلم کونسل آف بریٹن کے ترجمان عنایت بنگلہ والا نے کہا کہ وہ اس ریلی سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ برطانوی مسلمانوں کی اکثریت اشتعال پسند نہیں ہے۔ مرکزی لندن میں واقع ٹرافالگر سکوائر میں ہونے والی اس ریلی میں تقریباً تین ہزار افراد نے شرکت کی جن میں ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان مرد و خواتین شامل تھے۔ مسلم پبلک افیئرز کمیٹی کے سربراہ اصغر بخاری نے اس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک اعتدال پسند مذہب ہے جس میں اشتعال انگیزی کی گنجائش نہیں۔ اس ریلی میں شریک ایک برطانوی مسلمان خاتون انیقہ وحید نےکہا کہ آزادی اظہار کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اسلامک سوسائٹی آف بریٹن کے ڈاکٹر ظہور قریشی نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام نے اپنے اوپر تشدد کے باوجود جب بدلہ نہیں لیا تو اشتعال انگیزی کا راستہ اپنانے والے اپنے آپ کو کیسے حق بجانب کہہ سکتے ہیں اس ریلی میں مظاہرین کے اٹھائے ہوئے پلے کارڈ پر تحریر تھا کہ اشتعال پسندی کے خلاف ہم متحد ہیں ۔اور یہ کہ پیغمبر اسلام اعتدال پسندی اور امن کے پیکر ہیں کارٹونوں کی اشاعت پر گزشتہ جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں نظر آنے والے پلے کارڈ کے اشتعال انگیز نعرے آج کی ریلی میں بالکل نظر نہیں آئے۔ ریلی مجموعی طور پر پرامن رہی لیکن ٹرافالگر سکوائر کے آس پاس کی سڑکوں پر پولیس کی کئی گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||