BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 February, 2006, 08:42 GMT 13:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون: لاہور پولیس پہرے میں

پولیس
دس ہزار سے زیادہ پولیس کے جوان سڑکوں پر اور عمارتوں پر پہرہ دے رہے ہیں
جمعہ کے روز تحفظ ناموس رسالت محاذ کی جانب سے احتجاج کی اپیل پر پورے لاہور میں جگہ جگہ پولیس اور رینجرز تعینات ہیں جبکہ غیرملکی بنک اور ریستوران بند کر دیے گئے ہیں۔

لاہور میں پولیس نے مظاہروں میں سرگرم جماعت الدعوۃ کے قائد حافظ سعید کو ان کے گھر پر نظر بند کردیا گیا ہے۔

ملتان اور فیصل آباد میں پولیس نے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والے ایک سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ دو روز سے پورے پنجاب میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت جلسے جلوس کرنے پر پابندی ہے۔

شہر میں پولیس نے خواجہ سعد رفیق اور زعیم قادری سمیت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں اور دیگر درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے ترجمان نوید چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ پورے صوبے سے ان کی پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو آج صبح سے ان کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کرلیاگیا ہے۔

مختلف مسالک کی مذہبی جماعتوں اورمدرسوں پر مشتمل تحفظ ناموس رسالت محاذ نے جمعہ کے بعد یورپی اخبارات میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی۔

لاہور پولیس کے ترجمان اطہر علی نے بتایا کہ شہر میں دس ہزار سے زیادہ پولیس کے جوان سڑکوں پر اور عمارتوں پر حفاظتی اقدام کے طور پر پہرہ دے رہے ہیں اور گشت کررہے ہیں۔

نیم فوجی تنظیم رینجرز کے ترجمان ایس آئی ندیم نے بتایا کہ رینجرز کے جوان خاص طور پر اندرون شہر کے علاقوں جیسے شاہ عالمی، مال روڈ، پنجاب اسمبلی، ہال روڈ، امریکی قونصلیٹ وغیرہ پر بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے ہیں۔

شہر کی بڑی سڑکوں جیسے گلبرگ بلیوارڈ، دی مال، جیل روڈ وغیرہ پر پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہوئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔ مال روڈ پر پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی گشت کررہی ہیں۔

احتجاج میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شہر میں سٹی بینک اور غیر ملکی ریستوران بند ہیں اور کئی سکولوں نے وقت سے پہلے بچوں کو چھٹی دے دی ہے۔ منگل کو شہر میں مقامی بازاروں کی ہڑتال کے روز کھلے ہوئے غیر ملکی بینکوں اور ریستورانوں کو ہجوم نے توڑا پھوڑا اور آگ لگائی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ بدھ کو جماعت اسلامی سے وابستہ طلبا تنظیم کے پنجاب یونیورسٹی کے باہر احتجاج کے دوران میں بھی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

تحفظ ناموس رسالت محاذ کے رہنماؤں کہنا ہے کہ منگل کے تشدد کے واقعات کے ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور امن و امان قائم رکھنا حکومت کا فرض ہے اس کا نہیں۔

محاذ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ثبوت ہیں کہ منگل کے روز تشدد میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کارندے ملوث تھے اور وہ دو افراد کی ہلاکت کا مقدمہ پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہٰی، پولیس کے آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کے خلاف درج کرائے گی۔

محاذ کا دعویٰ ہے کہ لاہور میں پولیس اب تک مظاہرہ میں شریک پانچ سو افراد کو گرفتار کرچکی ہے۔ دوسری طرف پولیس نے محاذ کے رہنماؤں پر منگل کے تشدد کے واقعات کے مقدمے درج کرلیے ہیں تاہم کسی کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔

متنازعہ کارٹون : خصوصی ضمیمہ
متنازعہ کارٹون : خصوصی ضمیمہ
احتجاجتشدد کیوں؟
احتجاج تاخیر سے لیکن تشدد کیوں؟
اسی بارے میں
تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی
15 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد