کراچی میں ہزاروں افراد کی ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے کارٹون چھپنے کے خلاف جمعرات کو کراچی میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریلی قائد اعظم مزار سے گیارہ بجے کے قریب شروع ہوئی۔ جس کی قیادت جماعت اہلسنت و جماعت، سنی تحریک اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مفتی منیب الرحمان، شاہ تراب الحق، مولانا اویس نورانی،اکرم قادری کر رہے تھے۔ ریلی میں ایم ایم اے کی اتحادی جماعتوں کے رہنما شامل نہیں تھے۔ احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک تھے۔ جن کی سر پر سبز پگڑیاں تھیں اور ہاتھوں میں سبز پرچم تھامے ہوئے تھے۔ مظاہرین ’الجہاد الجہاد‘،’ نبی کا جو غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے‘ ’غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ریلی کی گزرگاہ ایم اے جناح روڈ کو صبح سے ہی سیل کر دیا گیا تھا۔ بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار موجود تھے۔ پولیس اہلکارروں کو سیفٹی جیکٹس پہنی ہوئی تھی۔ ریلی کی ابتدا سے قبل ہی منتظمین نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ یہ ریلی پرامن ہوگی اگر کوئی بھی توڑ پھوڑ یا پتھراؤ کریگا اس کو رینجرز کے حوالے کیا جائیگا۔ دوران احتجاج کچھ مشتعل نوجوانوں نے پتلا جلانے کی کوشش کی جس کو روکا کیا جس پر کچھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ شہر کے اہم کاروباری مرکز صدر ریگل چوک اور اردگرد میں کاروبار بند رہا جبکہ تمام پیٹرول سٹیشن کو بھی شامیانے لگا کر بند کردیاگیا تھا۔ سنیما گھروں پر آویزواں فلمی پوسٹر ہٹادیئے گئے تھے جب کہ چھتوں پر پولیس اہلکار موجود تھے۔ ریلی پر امن طریقے سے تبت سینٹر پر اختتام پذیر ہوئی جہاں جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ | اسی بارے میں لاہور میں شدید احتجاج، فائرنگ سے دو ہلاک14 February, 2006 | پاکستان پشاور: کارٹونوں پراحتجاج وتوڑ پھوڑ13 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||