BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 17:11 GMT 22:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہر قیمت پرامن و امان کی ہدایات

وزیرِاطلاعات شیخ رشید
شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ صدر بش کے دورے کے وقت احتجاج کرنے والے لوگ بے عقل اور نااہل ہیں
پاکستان حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ ہر قیمت پر امن و امان برقرار رکھا جائے اور پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کی آڑ میں ریاست اور عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر بش کے دورے کے وقت احتجاج کرنے والے لوگ بے عقل اور نااہل ہیں۔


یہ بات وزیرِاطلاعات شیخ رشید احمد نے بدھ کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

شیخ رشید احمد نے بتایا کہ صدر اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’پیغمبر اسلام کے متعلق یورپی ممالک کے اخبارات میں شائع شدہ کارٹون اور خاکوں پر پوری قوم کے جذبات ایک ہیں لیکن اس بارے میں احتجاج کی آڑ میں بدامنی پھیلانے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے،۔

انہوں نے کہا کہ مذموم مقاصد رکھنے والے کچھ ملکی عناصر پُرتشدد واقعات کے پیچھے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کیے بنا کہا کہ اس کے پیچھے دستانے پہنے عناصر ملوث ہیں۔

وزیر نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ ’فورمز، پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور اب اس بارے میں پرتشدد احتجاج کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہوگی‘۔ ان کے مطابق حکومت نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ناروے کی حکومت کی جانب سے معافی مانگنے کو حکومت سراہتی ہے اور دیگر ممالک جن کے اخبارات نے توہین آمیز خاکے شائع کیے ہیں، ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھی حالات بہتر کرنے کے لیے مسلمانوں سے معافی مانگیں‘۔

شیخ رشید نے کہا کہ حکومت سمجہتی ہے کہ ’اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے عقائد کو ٹھیس پہنچانا قابل مذمت عمل ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ اخبارات شائع کرنے والے پبلشرز کی سخت مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے پاکستان کے دورے کے وقت برصغیر کے متعلق جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ چین کے وقت ملک کی تاریخ میں اہم فیصلے ہونے جا رہے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پہلے ہی امریکہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور صدر بش سے ملاقات کے دوران اس بارے میں بات ہوگی۔

وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے جنوبی ایشیا میں آزادانہ تجارت کے معاہدے کی توثیق کردی ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی پیش رفت مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

اسی بارے میں
پاکستان بھر میں شدید احتجاج
14 February, 2006 | پاکستان
پاکستان بھر میں شدید احتجاج
14 February, 2006 | پاکستان
کارٹون کے خلاف احتجاج جاری
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد