اسلام آباد: مظاہرہ اور گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کی کال پر دن بھر سینکڑوں لوگوں نے اسلام آباد کے آبپارہ چوک پر پیغمبرِاسلام کے کیری کیچرز کی یورپی اخبارات میں اشاعت کے خلاف مظاہرہ کیا اور پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سے ٹکراؤ کے بعد شام کو منتشر ہو گئے۔ اس دوران پولیس مظاہرین پر آنسو گیس پھینکتی رہی اور رینجرز کو بھی طلب کیا گیا۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا اور کل مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں مستقبل کالائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ آج پولیس نے راولپنڈی میں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں منور حسن اور حنیف عباسی کو بھی گرفتار کر لیا ہے جبکہ اسلام آباد سے مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی میاں اسلم کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ادھر لاہور میں مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کو ان کی منصورہ میں واقع رہائشگاہ میں تیس دن کے لیے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین کے منتشر ہونے کے بعد شام کے وقت آبپارہ چوک پر ہر طرف پتھر اور آنسو گیس کے شیل پڑے تھے۔ تاہم املاک کو نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مجلس کے سکریٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین نے کچھ دیر تک آبپارہ میں دھرنا دیا۔ابھی ان کا دھرنا جاری تھا کہ آبپارہ مارکیٹ کے اطراف کی تنگ گلیوں سے مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں آبپارہ چوک کی طرف بڑھے تو پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے بعد پولیس اور مظاہرین میں آنکھ مچولی شروع ہو گئی۔ ایک وقت میں مظاہرین نے پولیس پر مسلسل پتھراؤ کر کے پولیس کو پیچھے دھکیل کر آبپارہ چوک پر قبضہ جما لیا جس کے بعد انتظامیہ نے پولیس کی مدد کے لیے رینجرز کو بھی طلب کر لیا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ٹکراؤ کے بعد پولیس اور مظاہرین میں مذاکرات ہوئے اور مظاہرین کو چوک کے نزدیک ریلی کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس ریلی کے موقع پر مظاہرین نے نعروں میں کہا کہ ’مشرف دیکھ لو کس کا پلہ بھاری ہے‘۔ مظاہرین میں زیادہ تر نوجوان شامل تھے جو پولیس کو جل دے کر مختلف گلیوں سے آبپارہ پہنچے تھے۔ آج صبح سے ہی پولیس اور رینجرز نے اسلام آباد کے تمام داخلی رستوں اور اہم شاہراہوں کو عام آمد ورفت کے لیے بند کر دیا تھا۔ اس دوران اسلام آباد آنے والے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا مگر پھر بھی ایک ہزار سے زائد مظاہرین آبپارہ چوک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ وفاقی حکومت نے اس ریلی کو روکنے کے لیے اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر کے ہر قسم کے جلوس اور ریلیوں پر پابندی عائد کی تھی جبکہ اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں اور اہم عمارتوں پر پولیس فوجی و نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ اسلام آباد میں مختلف شاہراہوں پر فوج اور پولیس گشت کرتی رہی اور مجلس عمل کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ حکومت نے مجلس عمل کی ریلی کو روکنے کے لیے آبپارہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک کے علاقے کو سیل کر دیا اور وہاں گاڑیوں اور پیدل افراد کی نقل و حرکت روک دی تھی۔ مظاہرے سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ حکومت بڑے پیمانے پر مجلس عمل کے کارکنوں کو گرفتار کر کے اس ریلی کو روکنا چاہتی ہے مگر مجلس عمل یہ ریلی ضرور نکالے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ریلی پُر امن ہو گی مگر حکومت عقل و دانش کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا تھا کہ لاہور کے فسادات کو حوالہ بنا کر اس ریلی کو روکنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ لاہور میں فسادات حکومتی ایجنسیوں نے کروائے تھے تاکہ اسلام آباد کی اس ریلی کو روکنے کا بہانہ کیا جا سکے۔ مظاہرے سے قبل مولانا فضل الرحمن اور مجلس عمل اور پیپلز پارٹی کے کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے پالیمنٹ لاجز سے آبپارہ تک مارچ کیا۔ | اسی بارے میں اسلام آباد: مجلس کی کال پر مظاہرہ19 February, 2006 | پاکستان ’کارٹون بنانے پر افسوس نہیں‘19 February, 2006 | آس پاس کارٹونوں کے خلاف خواتین ریلی18 February, 2006 | پاکستان کارٹون ہنگامے، چنیوٹ میں 4 زخمی18 February, 2006 | پاکستان ملتان: مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج18 February, 2006 | پاکستان کارٹون تنازعہ: کیا اس فورم کو بند کر دیا جائے؟18 February, 2006 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||