ملتان: مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بعض یورپی اخبارات میں چھپنے والے متنازعہ خاکوں کے خلاف جمعہ کے روز ملتان میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ احتجاجی مظاہرے کا اہتمام جماعت اسلامی پاکستان کی نوجوانوں پر مشتمل ذیلی تنظیم شباب ملی نے کیا تھا۔ پولیس نے مظاہروں پر لگی پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر شباب ملی کے چونتیس کارکنوں کو جمعہ کے روز گرفتار بھی کر لیا تھا۔ شباب ملی کے سو کے قریب کارکن ملتان کے گورنمنٹ ولایت حسین کالج سے احتجاج کا آغاز کرتے ہوئے شہر کے مصروف کاروباری علاقے حسین آگاہی بازار کی طرف جانا چاہتے تھے کہ پولیس نے انہیں راستے میں آنے والے علی چوک پر روک کر منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین آگے بڑھنے پر بضد تھے۔ جس پر پولیس کی بھاری نفری نے پچاس کے قریب مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر پولیس کی طرف سے معمولی لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ حراست میں لیئے گئے مظاہرین میں سے سولہ کو تنبیہ کر کے چھوڑ دیا گیا تھا جبکہ باقی چونتیس کے خلاف انیس سو ستانوے کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت تھانہ لوہاری گیٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین کے خلاف نقص امن اور حملہ کرنے کی نیت سے غیر قانونی اکٹھ کرنے کے الزامات سے متعلقہ دفعات بھی مقدمے میں شامل کی گئی ہیں۔ گرفتار افراد میں شباب ملی کے ضلعی صدر شہزادہ بابر مان بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل17 February, 2006 | پاکستان اسلام آباد: ڈنمارک کا سفارتخانہ بند17 February, 2006 | پاکستان کارٹون: لاہور پولیس پہرے میں17 February, 2006 | پاکستان کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر17 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||