کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف کراچی میں صبح ہڑتال کے بعد شام تک پرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں جس کا مرکز سہراب گوٹھ کا علاقہ تھا۔ کراچی میں پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ دوپہر سے پولیس پر پتھراؤ، ہوائی فائرنگ اور جوابی کارروائی میں آنسوگیس کے استعمال اور لاٹھی چارج کا سلسلہ شام دیر تک جاری رہا جس میں پانچ پولیس اہلکار اور دس سے زائد مظاہرین معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔ جبکہ پولیس اور رینجرز کی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچایاگیا۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم پاسبان کی جانب سے اس ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ جبکہ پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن، ٹرانسپورٹرز اور آل پاکستان کلرک ایسو سی ایشن نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔ سہراب گوٹھ کے علاقے میں دوپہر بارہ بجے کے قریب اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب دوائیوں کی کمپنی کے ایک دفتر کو بند کرانے کے لئے مشتعل لوگوں نے پتھراؤ کیا جس پر پولیس نے پہنچ کر لاٹھی چارج کرنا شروع کردیا۔ مشتعل افراد نے سپر ہائی وے پر ٹائر جلاکر ٹریفک کو مکمل طور پر بند کردیا اور پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔ پولیس نے آنسوگیس کے شیل پھینکے اور فائرنگ کر کے لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کی مدد کے لئے رینجرز پہنچ گئی۔ شام کو رینجرز کے قافلے میں سپر ہائی وے پر ٹریفک بحال کرنے کی کوشش کی گئی مگر مشتعل لوگوں نے اس کو ناکام کردیا۔ پشتو آبادی والے اس علاقے کے دونوں اطراف میں افغان بستیاں موجود ہیں جن میں چالیس ہزار سے زائد افغان پناہ گزیں رہتے ہیں۔ اس سے قبل پولیس اور رینجرز سے اس علاقے کے لوگوں کی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جس میں کچھ اہلکار ہلاک بھی ہوچکے ہیں جبکہ پولیس چوکیوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ٹاؤن پولیس افسر اصغر شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشتعل لوگوں نے سپر ہائی وے پر پتھراؤ کیا اور ٹائر جلائے اور جب پولیس پہنچی تو اس پر بھی پتھراؤ شروع کر دیا۔ انہوں بتایا کہ افغان بچے ہیں جو گلیوں سے نکل کر فائرنگ کرتے ہیں اور پھر گم ہوجاتے ہیں۔ ’ہم زیادہ سختی نہیں کرسکتے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔‘ انہوں نے بتایا کہ سپر ہائی وے کے دونوں طرف افغان بستیاں ہیں ایک طرف سے ان کو دوڑاتے ہیں تو دوسری طرف سے ظاہر ہوجاتے ہیں، تنگ گلیوں میں گھر ہیں جہاں تک رسائی مشکل ہے۔ اصغر شاہ نے تصدیق کی کہ پولیس نے پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ پولیس کے کچھ لوگ جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ صورتحال پر کب تک قابو پایا جائیگا تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ اندھیرا ہوگیا اور وہ لوگ بھی تھک گئے اب صورتحال کنٹرول میں آجائیگی۔ ہڑتال کی کال دینے والی تنظیم پاسبان کے صدر الطاف شکور نے پرتشدد واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن ہڑتال کو دوپہر کے بعد دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ان کا کہنا تھا عوام حتجاج کی کال کے منتظر تھے ’مگر کسی نے کال نہیں دی جس وجہ سے ہم نے پہل کی اگر عوام کو بڑہاس نکالنے کا یہ موقع نہیں ملتا تو یہ فرسٹریشن اور روپ بھی لے سکتی تھی۔‘ | اسی بارے میں کراچی:کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند17 February, 2006 | پاکستان اسلام آباد: ڈنمارک کا سفارتخانہ بند17 February, 2006 | پاکستان کراچی میں ہزاروں افراد کی ریلی16 February, 2006 | پاکستان کارٹون: لاہور پولیس پہرے میں17 February, 2006 | پاکستان احتجاج صرف کارٹونوں کے خلاف نہیں15 February, 2006 | پاکستان پشاور: پرتشدد مظاہروں کاتیسرادن 15 February, 2006 | پاکستان لاہور:ایک اور ہلاک، مظاہرے جاری15 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||