کراچی:کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف جمعہ کی صبح سے کراچی میں کاروبار اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے۔ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم پاسبان کی جانب سے اس ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس ہڑتال کی پرائیوٹ سکول ایسو سی ایشن، ٹرانسپورٹرز اور آل پاکستان کلرک ایسو سی ایشن نے بھی حمایت کی تھی۔ جبکہ شہر کی سرکاری یونیورسٹیز میں تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ سہراب گوٹھ کے علاقے میں دوپہر بارہ بجے کے قریب اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب دوائیوں کی کمپنی کے ایک دفتر کو بند کرانے کے لیئے مشتعل لوگوں نے پتھراؤ کیا۔جس پر پولیس نے پہنچ کر لاٹھی چارج کرنا شروع کردیا۔ مشتعل افراد نے سپر ہائی وے پر ٹائر جلاکر ٹریفک کو مکمل طور پر بند کردیا۔ جبکہ پولیس پر بھی پتھراؤ کیا۔ پولیس نے آنسوگیس کے شیل پھینک اور فائرنگ کر کے لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ پشتو آبادی والے اس علاقے میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد رینجرز بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ٹاؤن پولیس افسر اصغر شاہ نے بتایا ہے کہ مشتعل لوگوں نے سپر ہائی وے پر پتھراؤ کیا اور ٹائر جلائے اور جب پولیس پہنچی تو اس پر بھی پتھرؤا شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیئے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور ہوائی فائرنگ کی گئی ۔ پولیس افسر نے تصدیق کی کہ پچیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ علاقے کی مساجد میں سے لوگوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی گئیں ۔ شہر کے تمام کاروباری مراکز اور نجی ادارے صبح سے ہی بند رہے جبکہ سرکاری سکول بھی بند ہیں۔ ہڑتال سے ایک روز قبل مذہبی جماعتوں کے ریلی کے موقع پر صوبائی حکومت نے سکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا مگر جمعہ کے روز ایسا کوئی اعلان نہ ہونے کے باوجود طلبہ اسکول نہیں گئے۔ کراچی سے اندرون سندھ اور ملک کے دیگر شہروں کی طرف جانے والی ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔ جبکہ شہر میں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے ٹیکسی اور رکشہ میں سفر کیا جبکہ کچھ جگہ پر پک اپ آمدرفت کے لیئے استعمال کی گئیں۔ آل ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ ارشاد بخاری نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب اور فرنٹیئر میں جس طرح املاک جلائی گئیں ہیں اس کے بعد ہم کسی کو موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ ہم غریب مسکین لوگ ہیں گاڑیاں قسطوں پر لی ہوئی ہیں اگر گاڑی کو نقصان پہنچتا ہے تو کون پیسے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہمیں کہتے ہیں۔ پوری قوم احتجاج کر رہی ہے انہیں اپنی پڑی ہوئی ہے اس لیئے ہم بھی رضاکارانہ طور پر اس ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں۔ دہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ہڑتال کی وجہ سے دشواری کا سامنا کرنا پڑا صدر میں مزدوری کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ایک پینٹر محمد اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا گھر کا چولہا جلتا ہی روز کمانے سے ہے ہڑتالوں اور احتجاج نے اس کو ٹھنڈا کردیا ہے۔ آل پاکستان کلرک ایسو سی ایشن (ایپکا) کی جانب سے تمام دفاتر میں کام کی ہڑتال کی گئی۔ جس وجہ سے سرکاری دفاتروں میں بھی کام ٹھپ ہوگیا۔ ایپکا کی جانب سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ جس سے وسیم الدین قاضی اور توقیر حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور ان ممالک کی مصنوعات دفتروں میں بھی استعمال نہیں کرنے دینگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے ان ممالک کی رکنیت ختم کی جائے جہاں یہ متنازعہ کارٹون شائع ہوئے۔ ہڑتال کے موقع پر غیرروایتی حفاظتی انتظامات نظر آئے کچھ مقامات پر صرف پولیس تعینات کی گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ہر قیمت پرامن و امان کی ہدایات 15 February, 2006 | پاکستان تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی 15 February, 2006 | پاکستان پشاور: پرتشدد مظاہروں کاتیسرادن 15 February, 2006 | پاکستان مظاہروں کا تیسرا روز، پشاور میں دو ہلاک15 February, 2006 | پاکستان لاہور:ایک اور ہلاک، مظاہرے جاری15 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||