BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 February, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر

احتجاجی مظاہرے
مظاہرین نے امریکی صدر بش اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی
صوبہ سرحد کے دارلحکومت پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران تاریخی مسجد مہابت خان کے خطیب نے متنازعہ کارٹونسٹ کے قتل کے لیئے دس لاکھ ڈالر سے زائد رقم اور ایک نئی گاڑی کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان میں نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں مظاہرین نے بعض یورپی اخبارات میں متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔

شہر کے اہم مقام چوک یادگار سے گزرتے ہوئے مظاہرین نے امریکی صدر بش اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے ڈنمارک کا پرچم اور صدر بش کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔

تاریخی قصہ خوانی بازار میں چوک شہیداں میں سینئر صوبائی وزیر سراج الحق اور مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا یوسف قریشی نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے خاکے بنانے والے کارٹونسٹ کو ان کے حوالے کرنے، ڈنمارک اور ناروے سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور بین الاقوامی سطح پر توہین رسالت کو روکنے کے لیئے قانون کی تیاری تک احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے وفاقی حکومت کی اس مسئلہ پر خاموشی پر تنقید بھی کی۔ سینئر صوبائی وزیر نے اس موقع پر مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اتوار کے روز اسلام آباد احتجاج کے لیئے ضرور جائیں۔ انہوں نے مظاہرین کو پرامن رہنے کی بھی تلقین کی۔

جلسے کے اختتام پر مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا یوسف قریشی نے توہین رسالت کے مرتکب شخص کو قتل کرنے والے کے لیئے دس لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ اسی وقت جامعہ اشرفیہ نے پانچ لاکھ جبکہ ایک صراف نے دس لاکھ ڈالر اور گاڑی دینے کا اعلان کیا۔

سینئرصوبائی وزیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ وہ ایک عام شہری کے طور پر اس مظاہرے میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلانات لوگوں کے جذبات اور غصے کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہر کوئی اپنے اپنے جذبات کے مطابق یہ اعلانات کر رہے ہیں‘۔

مولانا یوسف قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کے تمام اماموں کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسے تین افراد کو حضور کی موجودگی میں گستاخی پر قتل کیا گیا تھا‘۔

پولیس بڑی تعداد میں مظاہرے کے دوران ساتھ ساتھ رہی۔ تاہم جلسے کے اختتام پر مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

احتجاجتشدد کیوں؟
احتجاج تاخیر سے لیکن تشدد کیوں؟
پاکستان میں احتجاج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد