BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 February, 2006, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون ہنگامے، چنیوٹ میں 4 زخمی

 رینجرز
امن و امان بحال رکھنے میں رینجرز بھی پولیس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں
یورپی میڈیا میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف ہفتے کو بھی پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور چنیوٹ میں ہجوم پر پولیس کی فائرنگ سے چار افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

آج چنیوٹ اور چیچہ وطنی میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف ہڑتال کی گئی اور طالبعلموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلاکر رجوعہ چوک کے پاس سڑک پر ٹریفک بند کردی۔

چنیوٹ میں پولیس اور طالعلموں میں جھڑپیں ہوئیں۔ طلبا نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کااستعمال کیا۔

اس ہنگامہ آرائی میں چار نوجوان شدید زخمی بتائے جاتے ہیں جو فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں داخل ہیں۔ دوسری طرف چیچہ وطنی میں کاروبار کی ہڑتال کے ساتھ ساتھ وکلاء نے بھی عدالتوں میں کام کاج نہیں کیا۔

لاہور میں رینجرز اور پولیس کا گشت جاری ہے جو کاروباری مراکز، بنکوں اور غیرملکی کمپنیوں کے باہر آج مسلسل پانچویں روز بھاری تعداد میں موجود ہیں۔

لاہور میں پولیس نے بائیس سنی (بریلوی) تنظیموں کے اتحاد تحفظ ناموس رسالت محاذ کے روپوش قائدین ، مفتی سرفراز نعیمی، مفتی محمد خان قادری اور صاحبزادہ عبدالصطفی کے گھروں پر ان رہنماؤں کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے ہیں اور ان کے مدرسوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔

تحفظ ناموس رسالت محاذ کے مرکزی قائد مفتی سرفراز نعیمی کا کہنا ہے کہ گزشتہ منگل سے لے کر اب تک پولیس اس کے پانچ سو کارکنوں کو گرفتار کرچکی ہے۔

دوسری طرف، راولپنڈی کے ایک میجسٹریٹ نے آج ہفتہ کے روز مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کو ایک روز کے ریمانڈ پر لاہور پولیس کے حوالہ کردیا ہے جس نے ان کے خلاف منگل کے روز شہرمیں ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سمیت دس مختلف دفعات کے تحت مقدمے درج کیے ہوئے ہیں۔

چھ رکنی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی کال پر لاہور میں کل اتوار کو اسلام آباد میں اور چھبیس فروری کو بھی احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم حکومت نے احتجاجی جلسے اور جلوسوں پر دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
کراچی: احتجاج تشدد میں تبدیل
17 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد