BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 February, 2006, 05:50 GMT 10:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: مجلس کی کال پر مظاہرہ

اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات
آبپارہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک کے علاقے کو سیل کر دیا گیا تھا
پاکستان کی دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کی کال پر دن بھر سینکڑوں لوگوں نے اسلام آباد کے آبپارہ چوک پر مظاہرہ کیا اور پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سے ٹکراؤ کے بعد شام کو منتشر ہو گئے۔ اس دوران پولیس مظاہرین پر آنسو گیس پھینکتی رہی اور رینجرز کو بھی طلب کیا گیا۔

مظاہرین کے منتشر ہونے کے بعد شام کے وقت آبپارہ چوک پر ہر طرف پتھر اور آنسو گیس کے شیل پڑے تھے۔ تاکہ ابتدائی طور پر املاک کو نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مجلس کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین نے کچھ دیر تک آبپارہ میں دھرنا دیا۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے گا اور کل مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

آج پولیس نے راولپنڈی میں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں منور حسن اور حنیف عباسی کو بھی گرفتار کر لیا ہے جبکہ اسلام آباد سے مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی میاں اسلم کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ادھر لاہور میں مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کو ان کی منصورہ میں واقع رہائش گاہ پر تیس دن کے لیئے نظر بند کر دیا گیا ہے۔

مظاہرے سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ حکومت بڑے پیمانے پر مجلس عمل کے کارکنوں کو گرفتار کر کے اس ریلی کو روکنا چاہتی ہے مگر مجلس عمل یہ ریلی ضرور نکالے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ریلی پُر امن ہو گی مگر حکومت عقل و دانش کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا تھا کہ لاہور کے فسادات کو حوالہ بنا کر اس ریلی کو روکنے کے احکامات جاری کیئے گئے ہیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ لاہور میں فسادات حکومتی ایجنسیوں نے کروائے تھے تاکہ اسلام آباد کی اس ریلی کو روکنے کا بہانہ کیا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے اس ریلی کو روکنے کے لیئے اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر کے ہر قسم کے جلوس اور ریلیوں پر پابندی عائد کی تھی جبکہ اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں اور اہم عمارتوں پر پولیس فوجی و نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں مختلف شاہراہوں پر فوج اور پولیس گشت کرتی رہی اور مجلس عمل کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیئے مختلف جگہوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

حکومت نے مجلس عمل کی ریلی کو روکنے کے لیئے آبپارہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک کے علاقے کو سیل کر دیا اور وہاں گاڑیوں اور پیدل افراد کی نقل و حرکت روک دی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد