’احتجاجی تحریک مجلس عمل کی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھر میں یورپی میڈیا میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف اب تک ہونے والے زیادہ تر مظاہرے سنی بریلوی مدرسوں اور تنظیموں نے منظم کیے ہیں جس میں گلی محلے کے ناراض نوجوان اور سکولوں اور کالجوں کے طالبعلم سرگرم ہوگئے ہیں۔ تاہم بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ چھ رکنی مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل اس احتجاجی تحریک کی قیادت کررہا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بریلوی علماء کے احتجاج اور مجلس عمل کے احتجاج میں ایک واضح فرق ہے کہ بریلوی علماء کے کارٹونوں کے خلاف احتجاج میں عام لوگ بھی شامل ہیں جبکہ مجلس عمل کے مظاہروں میں صرف اس کے کارکن شریک ہوتے ہیں۔ جب سے صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومت ہے متحدہ مجلس عمل نے کبھی ایسے روز احتجاج کی کال نہیں دی جس روز ملک میں عام ہفتہ وار تعطیل نہ ہو۔ اس مرتبہ انہوں نے چوبیس فروری اور تین مارچ کو احتجاج کی کال دی ہے اور دونوں دن جمعہ ہے۔ مجلس عمل کےمطالبے پر لوگ کتنی ہڑتال کرتے ہیں اس بات کا اندازہ تو اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب یہ ایسے دن رکھی جائے جب ہفتہ وار تعطیل نہ ہو۔ جمعہ کے دن پورے ملک میں چند بڑے شہروں جیسے لاہور، اسلام آباد اور کراچی کو چھوڑ کر دکانداروں اور تجارتی سرگرمیوں کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔ بعض بڑے شہروں جیسے ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی کے بیشتر بازار بھی جمعہ کے روز بند ہوتے ہیں اور یوں ایک عام تعطیل کو کامیاب ہڑتال قرار دینا آسان ہوجاتا ہے۔
جمعہ کے روز مسجدوں میں جمعہ کی نماز کا ہجوم ہوتا ہے جہاں مجلس عمل کے کچھ کارکن جھنڈے اور بینرز پکڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں تو مظاہرے سے لاتعلق عام نمازیوں کے بھی اس احتجاج میں شرکت کا تاثر ملتا ہے۔ اگر ایسے موقعوں پر پولیس پکڑ دھکڑ کرے جیسا کہ لاہور میں میراتھن کے معاملے پر پولیس نے کیا تھا تو ان مساجد میں نماز پڑھنے کے لیے آئے بچارے عام لوگ پکڑے جاتے ہیں جو تھانے والوں کو ’دے دلا‘ کر رہا ہوتے ہیں۔ انیس فروری کو اسلام آباد میں ہونے والا مظاہرہ متحدہ مجلس عمل کا کارٹونوں کے معاملہ پر پہلا شو تھا اور اسے ایسے منظم کیاگیا کہ مجلس عمل اور حکومت دونوں کی کامیابی نظر آئے۔ مجلس عمل کی روایت کے مطابق جلوس اور جلسہ کے لیے اتوار کا روز چنا گیا جب اسلام آباد میں ہفتہ وار تعطیل ہوتی ہے۔ عام تاثر ہے کہ مجلس عمل کا احتجاج اس اہتمام سے کیاجاتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں مناظر کی عکس بندی اس طرح ہوجائے کہ مجلس عمل کے رہنما زبردست احتجاج کرتے نظر آجائیں اور ان کا حزب اختلاف کے طور پر امیج بنے۔ اسلام آباد میں انیس فروری کو کچھ ایسا ہی ہوا۔ جلوس پر پابندی کے باوجود حکومت نے عین موقع پر مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ کو بیس پچیس لوگوں کے جلوس کے ساتھ پارلیمینٹ لاجز سے آبپارہ جانے کی اجازت دے دی۔ چند گھنٹے مدرسوں کے طالبعلم اور ان مذہبی جماعتوں کے کارکن پولیس سے جھگڑتے رہے، پتھراؤ ہوا اور آنسو گیس پھینکی گئی۔نجی ٹی وی چینلوں پر ان مناظر کی ٹی وی کوریج ہوتی رہی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی شخص شدید زخمی نہیں ہوا، کسی جائیداد کو نقصان نہیں پہنچا اور آخر میں حکومت نے مظاہرین کو جلسہ کرنے کی اجازت بھی دے دی جس کے بعد مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ انیس فروری کو اسلام آباد کے واقعات سے مجلس عمل کے رہنماؤں کا وہ احساس زیاں شاید کم ہوگیا ہو جو چودہ فروری کو لاہور میں ہوا تھا۔ لاہور میں جو مکمل ہڑتال، جلسہ جلوس اور بعد میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اس سارے شو میں مجلس عمل سرے سے شریک ہی نہیں تھی۔ لاہور میں ہڑتال اور جلوس کا انتظام بائیس سنی بریلوی تنظیموں نے کیا تھا جو کارٹونوں کے معاملے پر تحفظ ناموس رسالت محاذ کےنام سے متحد ہوئی ہیں۔ بریلوی مسلک کی پیغمبر اسلام سے جذباتی وابستگی اور اس کے لیے متحرک ہوجانا ایک روایتی بات رہی ہے۔ یہی بریلوی علماء ہیں جو پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاجی تحریک چلارہے ہیں۔ تاہم یہ گروہ میڈیا مینجمینٹ میں جماعت اسلامی کی طرح ہوشیار نہیں۔ چودہ فروری کو لاہور میں پہلے لوئر مال پر پولیس کی ہوائی فائرنگ سے اور بعد میں نیلا گنبد پر ایک بنک کے گارڈز کی ہوائی فائرنگ سے جو اشتعال پھیلا اس میں گلی محلے کے لڑکے بھی شامل ہوگئے اور تشدد پھیلتا چلا گیا۔ خود ریلی نکالنے والے بریلوی علماء مظاہرین کی یہ اچانک توڑ پھوڑ دیکھ کر ایسے سہمے کہ لمبی لمبی تقریریں کرنے کے بجائے چند جملے بول کر جائے وقوعہ سے کھسک گئے۔
لاہور میں تو ناموس رسالت محاذ کی ریلی کے وقت پر مجلس عمل نے تو مال روڈ سے دس بارہ کلومیٹر دور ملتان روڈ پر اپنے مرکز منصورہ کے پاس الگ احتجاجی مظاہرہ کی کال دی ہوئی تھی اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل منور حسن نے پریس کانفرنس رکھ لی تھی۔ شاید جماعت اسلامی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ چودہ فروری کو بریلوی علما کی کال پر ایسی مکمل ہڑتال ہوجائے گی اورایسا زبردست احتجاج ہوگا جس کے سیاسی مضمرات بھی ہوسکتے ہیں۔ اُس روز کے مظاہرے کے فوراً بعد قاضی حسین احمد نے تو اعلان کر ہی دیا تھا کہ یہ احتجاجی تحریک صدر جنرل مشرف کو اقتدار سے نکالنے تک جاری رہے گی جیسے کہ احتجاج ان ہی کے ہاتھوں ہی میں تو ہے! لگتا ہے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو چودہ فروری کو لاہور کے مظاہرہ سے باہر رہ جانے کا تاسف ہے جسے اب وہ بار بار (چوبیس فروری اور تین مارچ) احتجاج کی کال دے کر پورا کرنا چاہتے ہیں کہ شاید اس طرح احتجاجی لہر کی قیادت اس کے ہاتھ میں آجائے۔ |
اسی بارے میں کارٹون پر پاکستان کا احتجاج02 February, 2006 | پاکستان کارٹون: ایم ایم اے کا احتجاجی پروگرام11 February, 2006 | پاکستان احتجاج صرف کارٹونوں کے خلاف نہیں15 February, 2006 | پاکستان کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر17 February, 2006 | پاکستان کارٹون ہنگامے، چنیوٹ میں 4 زخمی18 February, 2006 | پاکستان کارٹونوں کے خلاف خواتین ریلی18 February, 2006 | پاکستان کارٹون: کراچی میں کفن پوش ریلی19 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||