’توڑ پھوڑ سے نقصان اپنا ہی ہوا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے مسئلہ پر پاکستان میں احتجاج کا سلسلہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ تمام بڑے شہروں میں پرتشدد مظاہروں کے باوجود مذہبی و سیاسی حلقے ابھی اس احتجاج میں کمی کے حق میں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن کاروباری طبقہ اس کے خاتمے یا پھر اسے پرامن بنانے کا خواہش مند ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں گزشتہ دنوں کارٹون تنازعہ پر احتجاج کی جو پرتشدد شکل شامنے آئی، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس احتجاج کے بعد سے کاروباری طبقہ مسلسل خوف اور بے چینی کی حالت میں ہے۔ جلوس آنے کی افواہ پر بازار کے بازار آًنا فانًا بند ہوجاتے ہیں۔ کارٹونوں جیسے سنگین مسئلہ پر ہر کوئی احتجاج کے حق میں ہے لیکن ایک ایسا احتجاج جو پرامن ہو۔ پشاور میں ٹرانسپورٹروں کے ایک نمائندے حاجی ملک رب نواز نے ایک اخباری کانفرنس میں ڈنمارک کے سفارت خانے کی بندش اور پاکستانی سفیر کی واپسی کے بعد جلسے جلوس بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ حاجی ملک رب نواز کا کہنا تھا کہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانا کہاں کا انصاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بےیقینی صورتحال کی وجہ سے انہیں روزانہ لاکھوں روپوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں کسی بھی پرتشدد احتجاج کی یہ روایت بن چکی ہے کہ مظاہرین اپنا غصہ سب سے پہلے ٹریفک سگنلز پر اتارتے ہیں۔ یہی کچھ گزشتہ دنوں بھی ہوا اور مظاہرین کے ہاتھوں شہر کے چند ٹریفک سگنل ہی بچ پائے۔ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے چیف انجینئر غلام عباس سے جب پوچھا گیا کہ ٹریفک سگنل کے بچ بچاؤ کے لئے کوئی تدبیر ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا اور کوئی حل نہیں۔ ’اگر ہم لوہے کے جنگلے لگا دیں تو وہ بھی توڑ دیے جائیں گے‘۔ سگنلز کے ٹوٹنے سے اکثر چوراہوں پر ٹریفک متاثر ہو رہی ہے۔ تاہم ان کی مرمت میں ماہ دو ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ٹریفک سگنلز کے علاوہ مظاہرین کے لئے غصے کے اظہار کا دوسرا ہدف چھوٹے بڑے سائن بورڈز ہوتے ہیں۔ پشاور میں پہلے تصاویر کو غیراسلامی قرار دینے والوں کی وجہ سے یہ اشتہارات نشانہ بنے اور اب ڈنمارک کی وجہ سے۔ اشتہارات نصب کرنے والی کمپنی اپالو کے حاجی رشید نے بتایا کہ صرف انہیں اس توڑ پھوڑ سے کم از کم بیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ’پہلے تصاویر کی وجہ سے توڑ پھوڑ ہوئی تو یونی لیور جیسی کثیرالقومی کمپنی نے یہ اشتہار لگانے بند کر دیے جو آج تک بند ہیں۔ ہم سال چھ مہینے میں درخواست التجا کرکے انہیں منا لیتے ہیں کہ پھر کچھ ہوجاتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس توڑ پھوڑ سے ان کا یعنی مقامی ایڈورٹائزرز کا نقصان ہوتا ہے بڑی بڑی کمپنیوں کا نہیں۔ یہ اشتہارات ہماری ملکیت ہوتے ہیں۔ ہم انہیں نصب کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ انہیں نقصان پہنچا تو ہمیں نقصان پہنچا‘۔ حاجی رشید نے بتایا کہ پہلے تو صرف عورتوں والی تصاویر والے اشتہارات کو نقصان پہنچایا گیا تھا تاہم اس مرتبہ جو سامنے آیا توڑ یا جلا دیا گیا۔ ’لوگ سائیکلوں پر اشتہارات رکھ کر ساتھ لے گئے‘۔ احتجاج سے متاثر ہونے والے اس کی ذمہ داری مقامی انتظامیہ یا حکومت پر ڈالتے ہیں۔ تاہم سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن تھا لیکن اسے مرکزی حکومت کے اشارے پر ایجنسیوں نے سبوتاژ کیا۔ حقیقت کچھ بھی ہو پرامن احتجاج کو یقینی بنانا نہ صرف حکومت بلکہ مظاہروں کے منتظمین کی بھی ذمہ داری قرار دی جاتی ہے۔ دونوں کو اس بات کا احساس کرنا ہے کہ توڑ پھوڑ سے ڈنمارک کی نہیں بلکہ اپنی ہی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ کاروباری طبقے میں خوف کا آج بھی یہ عالم ہے کہ احتجاج کے کئی روز بعد بھی دفاتر کے باہر شیشوں کو چاردوں سے ڈھانپا ہوا ہے۔ یہ چادریں کب ہٹیں گی اس میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ |
اسی بارے میں کارٹون: لاہور پولیس پہرے میں17 February, 2006 | پاکستان کراچی:کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند17 February, 2006 | پاکستان کراچی میں ہزاروں افراد کی ریلی16 February, 2006 | پاکستان احتجاج صرف کارٹونوں کے خلاف نہیں15 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||