لاہور کی ناکہ بندی، رہنما گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف لاہور میں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے کال کی جانے والی ’شان مصطفے ریلی‘ کے لیے آج پورے شہر پر پولیس اور رینجرز کی ناکہ بندی رہی اور قاضی حسین احمد سمیت کئی اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد پولیس اور رینجرز کے گھیرے کو توڑ کر ریلی میں شرکت کے لیے ناصر باغ تو نہیں جاسکے لیکن انہوں نے اپنی پارٹی کے مرکز منصورہ کے سامنے سڑک پر کارکنوں سے خطاب کیا جس میں پولیس نے ابتدائی طور پر خلل تو نہیں ڈالا لیکن بعد میں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ قاضی حسین احمد کے علاوہ جماعت اسلامی کے اہم رہنما لیاقت بلوچ اور میاں مقصود کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ بعد میں پولیس نے لیاقت بلوچ کو رہا کردیا۔ ادھر راولپنڈی میں جب قائد حزب اختلاف اور مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان لاہور کی ریلی میں شرکت کرنے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بھی پولیس اپنے ساتھ پکڑ کر لے گئی۔ آج گرفتار میں ہونے والوں میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی شامل ہیں۔ بعد میں پولیس کے افسران نے عمران خان کو ان کے گھر پر پہنچا کر چھوڑ دیا۔ شان مصطفے ریلی کی کئی سیاسی جماعتوں نے بھی حمایت کی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس نے سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس اور رینجرز نے نصف شب سے پورے لاہور شہر میں جگہ جگہ ناکے لگا کر شان مصطفیٰ ریلی کے اعلان کردہ راستے کو جانے والی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردی تھیں۔ نماز ظہر کے بعد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں موجود دو ڈھائی سو افراد قاضی حسین احمد کو لے کر مرکزی دروازہ سے باہر نکل آئے۔ جماعت کے کارکنوں نے پولیس کو دھکے دیے اور ان کی پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی۔ تاہم پولیس نے ذرا پیچھے ہٹ کر انہیں سڑک پر آنے کا موقع دیا۔ جماعت اسلامی کے کارکن سڑک (ملتان روڈ) پر بیٹھ گئے جسے دونوں طرف سے ٹریفک کے لیے رات سے بند کردیا گیا ہے۔ اسی جگہ جماعت اسلامی کے کارکنوں اور قاضی حسین احمد نے مجمع سے خطاب کیا۔
دوسری طرف، شہر کے دوسرے حصوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جتھوں کی صورت میں مختلف مقامات پر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جہاں ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ مال روڈ پر جماعت اسلامی کے کارکن ایک قریبی گلی سے نکل کر مسجد شہدا کی طرف بڑھے۔ انکے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھر پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی اور سو سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اچھرہ میں جہاں جماعت اسلامی سے وابستہ طلبا تنظیم کا مرکزی دفتر ہے کچھ مظاہرین سڑک پر نکلے تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد کو گرفتار کیا۔ دوسری طرف راولپنڈی پولیس نے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کو شہر چھوڑنے سے روک دیا۔ وہ ریلی میں شرکت کے لیے لاہور آنا چاہتے تھے۔ پنجاب حکومت نےمولانا فضل الرحمن پر سات روز کے لیے صوبہ میں داخل ہونے سے پابندی لگادی ہے جس کے احکامات انہیں رات کو پارلیمینٹ لاجز میں دیے گئے۔ پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور تحریک جعفریہ کے سربراہ ساجد نقوی پر بھی لاہور میں داخلہ پر پابندی لگادی گئی تھی۔ تاہم پنجاب کےوزیر قانون راجہ بشارت نے بتایا کہ مخدوم امین فہیم پر پنجاب یا لاہورمیں آنے پر پابندی نہیں لیکن وہ ریلی میں شرکت نہیں کرسکتے کیونکہ قانون کے مطابق اس پر پابندی ہے۔ لاہور میں کرفیو کا سماں لاہور کے بیشتر علاقوں میں اس وقت ایک غیراعلانیہ کرفیو کا سماں ہے جہاں عام لوگوں کی آمد ورفت بند کردی گئی ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے تعاون سے آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے ناصر باغ سے ایک جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا جسے اسمبلی ہال تک جانا تھا۔ صبح ہی سے پورے شہر میں گلے میں بندوق لٹکائے ایلیٹ پولیس اور رینجرز کے جوان شہر کی بڑی سڑکوں اور چوکوں پر تعینات ہیں اور انہوں نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہوئے ہیں۔ شہر میں ہفتہ وار تعطیل کےباعث دکانیں اور بازار بند ہیں۔
شہر سے ملتان جانے والی شاہراہِ پاکستان کو، جس کے راستے میں جماعت اسلامی کامرکز منصورہ ہے، ٹریفک کے لیےبند کردیا گیا ہے۔ راوی پل، سگیاں پل اور کاہنہ میں بھی پولیس کے ناکے لگے ہوئے ہیں۔ جماعت کے مرکز منصورہ کو چاروں طرف سے پولیس اور رینجرز نے گھیرے میں لیا ہے اوراس کے اندر اور باہر جانے کے راستے بند کردیے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد منصورہ کے اندر تین دن سے نظر بند رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی، بڑے دینی مدرسوں جیسے جماعت الدعوۃ کے مرکز قادسیہ اور دیگر کالجوں جیسے سائنس کالج اوراسلامیہ کالج سول لائنز وغیرہ کے باہر بھی پولیس نے ناکے لگائے ہوئے ہیں اور رینجرز کی بھاری نفری بھی پہرہ دے رہی ہے۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور رینجرز کے جوان بڑی تعداد میں شہر کی ہر سڑک اور چوک پر کھڑی ہیں۔ مال روڈ، سول سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس اور ناصر باغ جانے والے تمام راستے ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کے دستے پورے شہر کا گشت کررہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں ارو ویگنیں سڑکوں پر بہت کم ہیں اور ان کے روٹس کی سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو راستے میں چھوڑ کر واپس جارہی ہیں۔ لاہور میں آنے والے تمام سڑک کے راستوں، ریلوے سٹیشنوں اور ائیرپورٹ پر پولیس کا کڑا پہرہ ہے۔ گزشتہ دو دن سے پولیس مختلف شہروں میں مسلم لیگ (ن) اورجماعت اسلامی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر درجنوں افراد کو گرفتار کرچکی ہے۔ راولپنڈی راولپنڈی میں پولیس نے مولانا فضل الرحمن کی لاہور آنے کی کوشش کو ناکام بنادیا۔ راولپنڈی پولیس لائنز سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لاہور جانے کے لیے آج صبح جب اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں راولپنڈی کے ایس ایس پی بھاری پولیس نفری کے ساتھ ایئرپورٹ پر موجود تھے جو انہیں اپنی تحویل میں لے کر پولیس لائنز لے گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ پولیس ان کو اس وقت تک تحویل میں رکھےگی جب تک لاہور کی تمام پروازیں روانہ نہیں ہو جاتیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کے واپس پارلیمنٹری لاجز جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ادھر اتحاد برائے بحالئ جمہوریت کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ لاہور کو آج مکمل طور پر سیل کیا جا چکا ہے اور پولیس نے سینکڑوں سیاسی و دینی جماعتوں کے کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو پولیس کی تحویل میں لیے جانے کے بعد وہ اے آر ڈی اور ایم ایم اے کی قیادت سے بات چیت کے بعد اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ لاہور جانے کی کوشش کی جائے یا نہیں۔ شام کے وقت مولانا فضل الرحمن نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لاہور میں ’ناموس رسالت‘ کی ریلی کو روک کر اور دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویے کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پابندی کے باوجود پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف حزب اختلاف کا احتجاج جاری رہے گا۔ مولانا فضل الرحمن تین گھنٹے تک پولیس کی تحویل میں رہنے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں دینی و سیاسی جماعتیں آل پارٹیز کانفرنس کر رہی ہیں جس میں ان ریلیوں پر حکومتی پابندی اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں قاضی حسین احمد پھر نظر بند 24 February, 2006 | پاکستان ’احتجاجی تحریک مجلس عمل کی نہیں‘20 February, 2006 | پاکستان کارٹون معاملہ یواین میں: مشرف25 February, 2006 | پاکستان پاکستان میں کارٹون احتجاج جاری24 February, 2006 | پاکستان ’یورپی وفد‘ میں شمولیت سے انکار23 February, 2006 | پاکستان ایم ایم اے کی خواتین کا مظاہرہ22 February, 2006 | پاکستان ’توڑ پھوڑ سے نقصان اپنا ہی ہوا‘20 February, 2006 | پاکستان پاکستان بھر میں شدید احتجاج 14 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||