BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 February, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں کارٹون احتجاج جاری

لاہور مظاہرین
لاہور میں مظاہرین نے ڈنمارک کے جھنڈے کو نذر آتش کر دیا
پاکستان میں پیغمبرِ اسلام کے متنازعہ کارٹون کےخلاف ملک بھر میں جمعہ کے روز احتجاجی مظاہرے کیےگئے۔

لاہور میں پولیس نے جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کو ان کے گھر پر نظر بند کر رکھا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے حکومتی پابندی کے باوجود پیغمبرِ اسلام کے بارے میں یورپی اخبارات میں چھپنے والے خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

دارالحکومت میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا تاہم ایم ایم اے کا یہ مظاہرہ پر امن طور پر ہوا۔

گزشتہ اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والے مظاہرے میں پولیس اور دینی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی ہوئی تھی اور پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیئے کئی گھنٹوں تک آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔

حکومت نے قاضی حیسن احمد کو نظر بند رکھا ہے۔

کراچی کمپنی میں ہونے والے مظاہرے کی قیادت قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کی۔مظاہرین نے اس موقع پر ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک، امریکہ اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے۔

مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مغرب اسلام کو نشانہ بنا رہا ہے اور پاکستانی حکمران مغربی آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کی نظر بندی کی مذمت کی اور کہا کہ دینی جماعتوں کے رہنما اور ارکان ناموسِ رسالت کے لیئے گرفتاریاں دیتے رہیں گے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مسلمانوں کا احتجاج جائز ہے اور امریکہ اور مغربی ممالک دنیا میں اس وقت پائے جانے والے انتشار کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک مذہبی مسئلے کو سیاسی مسئلہ بنا رہی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ اتوار کو اسلام آباد میں دینی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے میں طاقت کا استعمال کر کے ثابت کیا ہے کہ دراصل حکومت اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے جو ناموس رسالت کے خلاف جلوس نکالا تو اس میں ایک بھی حکومتی وزیر شامل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسی لیئے حزب اختلاف نے حکومت کی طرف سے یورپی یونین کے رہنماؤں سے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیئے برسلز جانے والے وفد میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیغمبر اسلام کے خاکوں پر بات کرنے کے لیئے بلایا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس اچانک موخر کر دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اس مسئلے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکی صدر جارج بش جو اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے

بش کے خلاف بھی مظاہرہ
 امریکی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر بھی حزب اختلاف کی جماعتیں مظارہ کریں گی تاکہ ان کو باور کروایا جا سکے کہ صرف پاکستانی حکمران امریکہ کے ساتھ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن
ان کی آمد پر حزب اختلاف کی جماعتیں مظاہرہ کریں گی تاکہ امریکی صدر کو باور کروایا جا سکے کہ صرف پاکستانی حکمران امریکہ کے ساتھ ہیں جبکہ پاکستانی عوام ان کو انسانیت کا قاتل سمجھتی ہے۔

ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بھی ان خاکوں کی اشاعت پر مظاہرہ کیا گیا۔

اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور انہوں نے ڈنمارک کے وزیر اعظم کے پتلے بھی نظر آتش کیے۔

لاہور

ادھر لاہور میں جمعہ کے روز لاہور پولیس نے جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کو ان کے گھر پر نظر بند کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ مجلس عمل نے آج متنازعہ کارٹونوں پر یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹرز منصورہ کے باہر جمعہ کی صبح پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے جو لوگوں کو اندر جانے سے روک رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان انور نیازی کے مطابق نصف شب کے بعد ڈھائی بجے پولیس نے جماعت اسلامی سے قاضی حسین احمد سے نظر بندی کے احکامات پر دستخط کرنے کے لیے کہا تھا لیکن انہوں نے انکا رکردیا۔تاہم قاضی حسین احمد منصورہ کے اندر موجود ہیں اورباہر نہیں نکلے۔

متحدہ مجلس عمل نے نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد کارٹونوں کے معاملہ پر احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ قاضی حیسن احمد منصورہ کے اندر جمعہ پڑھائیں گے۔

لاہور میں پولیس نے جمعرات کی شب دس افراد کو حراست میں لیا جن پر چودہ فروری کو لاہور میں توڑ پھوڑ کرنے کا الزام تھا۔ جماعت اسلامی کے مطابق اس کے کارکنوں کو شہر کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق تمام بڑی مسجدوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ کیپیٹل سٹی کے ایڈیشنل آئی جی خواجہ خالد فاروق کے مطابق شہر میں آٹھ ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں جو چھبیس فروری تک تعینات رہیں گے جس روز مجلس عمل نے لاہور میں جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ کے مطابق اب تک چودہ فروری کے واقعات کے سلسلہ میں انتالیس مقدمات درج کرکے تین سو گیارہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پینسٹھ افراد کو نظر بند کیا گیا ہے۔

کراچی
ادھر کراچی میں پیغمبرِ اسلام کے متنازعہ کارٹون اور سمارا میں بم دہماکے کے خلاف کراچی میں جمع کے روز نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں۔

جبکہ سندھ اسمبلی کے حکومتی ممبران اور متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے بھی مشترکہ احتجاج کیا ہے۔

سندھ اسمبلی کے جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی جسے اکثریت رائے سے منظور کیا گیا جبکہ اپوزیشن کی کارٹونوں کی اشاعت میں ملوث ممالک سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی قرارداد کامیاب نہ ہوسکی۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ پیر کے روز اسمبلی سے پریس کلب تک ریلی نکالی جائیگی۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں مغربی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا ہے یہ فیصلہ ہر کسی کو ذاتی طور پر کرنا پڑیگا۔

متحدہ مجلس عمل کی جانب سے گلشن اقبال کے علاقے میں مسجد بیت المکرم سے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت معراج الہدیٰ اور علامہ حسن ترابی کر رہے تھے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر معراج الہدیٰ نے کہا کہ مسلم امہ یہ سمجھ چکی ہے کہ امریکہ ان کو بانٹنا چاہتا ہے مگر آج شیعہ،سنی۔ بریلوی اور دیو بندی ایک ہیں۔کیونکہ ہمارا دشمن بھی ایک ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہمت نہ ہوئی مگر عوام کا احتجاج دیکھ کر ڈنمارک کا سفیر بھاگ گیا۔

شیعہ رہنما علامہ حسن ترابی کا کہنا تھا کہ امت اسلام کا ہر فرد قرآن کے نظام کو سجھ رہا ہے۔ظالموں کے خلاف فلسطین میں حماس، حزب اللہ کی شکل میں تو کہیں طالبان اور ایم ایم اے کی شکل میں جدوجہد جاری ہے۔ جس سے امریکہ ڈر گیا ہے۔

دوسری جانب کھارادر میں جعفریہ الائنس کی جانب سے خوجہ مسجد سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس میں شریک افراد کو سیاہ کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں سیاہ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرین نے اسرائیل،امریکہ اور ڈنمارک کے جھنڈوں کو نذر آتش کیا۔

علامہ عباس کمیلی،مولانا حسین مسعودی،علامہ آفتاب جعفری اور علامہ فرقان حیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شان رسالت میں گستاخی اور سمارا میں روضہٰ مبارک کی توہین اور تخریب کاری نے تمام مسلمانوں کے دلوں پر غم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عالمی سازش کا مقصد امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ہے۔
شہر میں آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی،پاسبان اور رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی مظاہرے کئے گئے۔

طالب علمکارٹون احتجاج
ایم ایم اے احتجاج کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے
احتجاجتشدد کیوں؟
احتجاج تاخیر سے لیکن تشدد کیوں؟
’نقصان اپنا ہی ہوا‘
کاروباری طبقہ پرامن مظاہروں کا خواہشمند
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد