BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 February, 2006, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یورپی وفد‘ میں شمولیت سے انکار

پاکستان کے مختلف شہروں میں متنازع کارٹونوں کے معاملے پر بڑی بڑی ریلیاں اور احتجاجی جلوس منعقد ہوئے
پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی و دینی جماعتوں نے حکومت کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے مسئلے پر یورپی یونین سے مذاکرات کرنے والے پارلیمانی وفد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے جبکہ حکومت نے الزام لگایا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے دو روز قبل عندیہ دیا تھا کہ پاکستان کے پارلیمان کا ایک وفد عنقریب برسلز جائے گا جہاں وہ یورپی رہنماؤں سے ملاقات کر کے ان کو مسلم دنیا میں پیغمبر اسلام کی اہمیت سے آگاہ کرے گا تاکہ مستقبل میں پیغمبر اسلام کے بارے میں کوئی خاکے نہ چھاپے جائیں۔

اسی سلسلے میں حکومت نے حزب اختلاف کو بھی اس وفد میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے آج اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ حزب اختلاف کا کوئی نمائندہ اس وفد میں شامل نہیں ہو گا۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے رہنما مخدوم امین فہیم نے اجلاس کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اس مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے ممبران پارلیمان کی طرف سے ان خاکوں کے خلاف احتجاج کے طور پر نکالے گئے جلوس میں ایک بھی حکومتی وزیر نے شرکت نہیں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو وزیر اعظم شوکت عزیز نے اس وفد میں شمولیت کی دعوت دی تھی مگر حزب اختلاف کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان خاکوں کے خلاف احتجاج کو ملک کے اندر تک محدود رکھنا چاہیے۔

ادھر دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ پارلیمانی وفد کو برسلز بھیجنے کا مقصد در حقیقت ملک میں ان خاکوں کی اشاعت پر جاری مظاہروں کو روکنا ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

حزب اختلاف کے اس فیصلے پر اپنے رد عمل میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس مسئلے کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کر کے ملک میں جلسے جلوس نکال کر شور شرابا برپا رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بنائے جانے والے اس پارلیمانی وفد کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کروانا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں پیغمبر اسلام کی بڑی اہمیت ہے اور مسلم دنیا ان کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی۔

احتجاجتشدد کیوں؟
احتجاج تاخیر سے لیکن تشدد کیوں؟
صدیقی اور شیریںبات کیوں بڑھی؟
مسئلہ علم کی کمی ہے یا انسانی حقوق کی پامالی؟
کارٹونسٹس کیا کہتے ہیں؟کارٹون تنازعہ
جنوبی ایشیائی کارٹونسٹ کیا کہتے ہیں؟
طالب علمکارٹون احتجاج
ایم ایم اے احتجاج کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد