BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے کی خواتین کا مظاہرہ

خواتین کا مظاہرہ
ایم ایم اے کی خواتین کا مظاہرہ
پاکستان کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی خواتین نے آج اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں پیغمبر اسلام کے بارے میں یورپی اخبارات میں متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈنمارک اور ناروے سے سفارتی تعلقات فی الفور منقطع کرے۔

اس مظاہرے میں شریک خواتین نے ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے جن میں ان خاکوں کو بنانے والے کارٹونسٹ کے لیئے موت کی سزا کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

مظاہرے کی شرکاء نے مختلف بینر بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھی عبارتوں میں کہا گیا کہ ان خاکوں کے اشاعت سے مغرب کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔

مظاہرے میں شریک مجلس عمل کی ممبر قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری مسلم دنیا میں ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف غم وغصے کی لہر ابھری ہے اور اسی سلسلے میں پورے ملک میں مجلس عمل کی خواتین آج احتجاج کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خاکوں کے پس پردہ تہذیبوں کے تصادم کو ہوا دی جا رہی ہے۔

انہوں نے پاکستانی حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف سخت موقف اختیار نہیں کیا۔ سمیعہ راحیل کے مطابق مسلم دنیا کے حکمران اپنے ممالک کی عوام کے جذبات کے ترجمان بننے کی بجائے اس مسئلے پر نرم پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔

مظاہرے میں شریک بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں کی تھی جو ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف نعرے لگا کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد