ایم ایم اے کی خواتین کا مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی خواتین نے آج اسلام آباد کے آبپارہ چوک میں پیغمبر اسلام کے بارے میں یورپی اخبارات میں متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈنمارک اور ناروے سے سفارتی تعلقات فی الفور منقطع کرے۔ اس مظاہرے میں شریک خواتین نے ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے جن میں ان خاکوں کو بنانے والے کارٹونسٹ کے لیئے موت کی سزا کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مظاہرے کی شرکاء نے مختلف بینر بھی اٹھا رکھے تھے جن پر لکھی عبارتوں میں کہا گیا کہ ان خاکوں کے اشاعت سے مغرب کا اصل چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ مظاہرے میں شریک مجلس عمل کی ممبر قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری مسلم دنیا میں ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف غم وغصے کی لہر ابھری ہے اور اسی سلسلے میں پورے ملک میں مجلس عمل کی خواتین آج احتجاج کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خاکوں کے پس پردہ تہذیبوں کے تصادم کو ہوا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف سخت موقف اختیار نہیں کیا۔ سمیعہ راحیل کے مطابق مسلم دنیا کے حکمران اپنے ممالک کی عوام کے جذبات کے ترجمان بننے کی بجائے اس مسئلے پر نرم پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔ مظاہرے میں شریک بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں کی تھی جو ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف نعرے لگا کر اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھیں۔ | اسی بارے میں ’موت کا فتوٰی دینا صحیح نہیں‘21 February, 2006 | پاکستان ’توڑ پھوڑ سے نقصان اپنا ہی ہوا‘20 February, 2006 | پاکستان مظاہرے جاری رہیں گے:مجلسِ عمل20 February, 2006 | پاکستان ’احتجاجی تحریک مجلس عمل کی نہیں‘20 February, 2006 | پاکستان اسلام آباد: مجلس کی کال پر مظاہرہ19 February, 2006 | پاکستان کارٹونوں کے خلاف خواتین ریلی18 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||