’موت کا فتوٰی دینا صحیح نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمیل الدین احسن اوگلو نے کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے متنازعہ کارٹون بنانے والے شخص کے لیئے موت کا فتوی جاری کرنا اسلام کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر تشدد کا رستہ نہ اپنائیں۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کے ہمراہ ان کارٹونوں کی اشاعت پر اسلامی ممالک کی تنظیم کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’او آئی سی اس مسئلے پر یورپی ممالک کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ خاکے آزادی اظہار کے زمرے میں نہیں آتے‘۔ تاہم ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان خاکوں کی اشاعت کے خلاف مسلم دنیا میں جو پر تشدد مظاہرے ہو رہے ہیں اس پر او آئی سے کا کیا رد عمل ہے تو ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا رستہ اپنانا درست نہیں ہےاور او آئی سی کی پوری کوشش ہے کہ یورپی ممالک کو اس مسئلے پر مسلمانوں کے موقف سے آگاہ کیا جائے اور ایسی یقین دہانی لی جائے کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا متنازع کارٹون بنانے والے افراد کے قتل کا فتوٰی ٹھیک ہے تو ان کا کہنا تھاکہ کسی کو کسی کا قتل کرنے کا حق نہیں ہے۔ سیکریٹری جنرل سے جب پوچھا گیا کہ کیا او آئی سی مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرنے میں ناکام رہی ہے تو انہوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس مسئلے کا کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں مسلمانوں کو سمجھانا پڑے گا کہ وہ اپنے ممالک میں تشدد کی راہ نہ اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ املاک اور گاڑیوں کو آگ لگانے سے مسلمانوں کے موقف کی صحیح ترجمانی میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ان کے مطابق ایسا کرنے سے پیغمبر اسلام کی خوشنودی حاصل نہیں ہو گی۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ او آئی سی اس مسئلے کے حل میں ناکام ہو گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے پاس محدود اختیارات ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے مطابق وہ کوئی خلیفہ نہیں ہیں کہ پوری اسلامی دنیا کے ممالک کی طرف سے یورپی اشیاء کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیں۔ |
اسی بارے میں کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر17 February, 2006 | پاکستان کارٹونسٹ کے قتل پر 51 کروڑ روپے18 February, 2006 | انڈیا کارٹون: کراچی میں کفن پوش ریلی19 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||