BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 February, 2006, 03:31 GMT 08:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹونسٹ کے قتل پر 51 کروڑ روپے
متنازع کارٹونوں کی اشاعت پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا ہے۔
بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر حاجی یعقوب علی نےڈنمارک کے متنازع کارٹونسٹ کے قتل پر 51 کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

میرٹھ کے فیضِ اعظم کالج میں ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ڈنمارک کے متنازع کارٹونسٹ واجب القتل ہیں۔

ریاست اتر پردیش میں اقلیتوں کی بہبود کے وزیر حاجی یعقوب علی نے کہا ہے کہ متنازع کارٹونسٹ کے سر کے قیمت کے طور پر دی جانے والے رقم چندے کے ذریعے اکٹھی کی جائے گی اور خود چندے کی مہم شروع کریں گے۔

بی بی سی ہندی سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام کے کاٹونوں کی اشاعت پر احتجاج کرنے والے میرٹھ کے عوام نے خود یہ رقم اکٹھا کرنے کی پیش کش کر رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلی میں موجود خواتین نے اپنے زیورات بیچ کر انعام کی رقم اکٹھی کرنے کی پیش کش کی ہے۔
حاجی یعقوب علی نے مسلمانوں پر زور دیا کہ احتجاج میں شامل ہو کر اسلام سے اپنی وابستگی کا ثبوت دیں۔

احتجاجی ریلی کے موقع پر میرٹھ میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔ اس موقع پر مقررین نے ڈنمارک کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ معافی مانگے۔

مقررین نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈنمارک سے سفارتی تعلقات منقطع کر لے۔

’سر کی قیمت‘
کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر اور گاڑی
احتجاجتشدد کیوں؟
احتجاج تاخیر سے لیکن تشدد کیوں؟
پاکستان میں احتجاج
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد