حزب اختلاف کی گول میز کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام سیاسی، دینی اور قوم پرست جماعتوں کے رہنما آج پیغمبر اسلام کے خاکوں کے بارے میں حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی، امریکی صدر جارج بش کے دورۂ پاکستان، بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن، ملک میں ’حقیقی جمہوریت‘ کے نفاذ اور قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے بارے میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں۔ اس کانفرنس کے آغاز میں حزب اختلاف کے شرکاء نے حکومت، فوج اور نیم فوجی دستوں پر الزام لگایا کہ وہ ’ناموس رسالت کے جلسوں‘، بلوچستان اور وزیرستان میں عوام پر تشدد کر رہی ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ پاکستان کی فوج کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کریں مگر پاکستان کی فوج بلوچستان میں غریب اور بے قصور لوگوں، بچوں اور خواتین کو مار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں فوج نہیں ہے بلکہ نیم فوجی دستے کاروائی کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیم فوجی دستے بھی فوج کا ہی حصہ ہیں اور فوج کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے عوام فوج کے خلاف نکل کھڑے ہوتے ہیں تو اس کے نہایت تباہ کن نتائج برآمد ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز ’ناموس رسالت کے جلسوں کو جس طرح روکنے کی کوشش کی گئی اور طاقت استعمال کی گئ وہ سب نے دیکھ لیا ہے۔‘
امین فہیم نے کہا کہ ناموس رسالت کے لیے پورے پاکستان کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں مگر حکومت نے اس مسئلے پر آدھی نرمی اور آدھی گرمی برتی ہے اور نہ تو ڈنمارک کے سفیر کو ملک بدر کیا گیا اور نہ ہی ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلایا گیا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ’حکومت نے توہین رسالت کے مسئلے پر حزب اختلاف اور عوام پر شرمناک حد تک تشدد کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’حکومت خدا اور رسول کو خوش کرنے کے بجائے امریکہ کو خوش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ تین مارچ کو ناموس رسالت کے سلسلے میں حزب اختلاف کو ملک بھر میں بھرپور احتجاج کرنا ہے۔ مجلس عمل کے رہنما اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت ناموس رسالت کے جلسوں کو روک کر اس کو سیاسی تنازعے میں تبدیل کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومتی پابندی دراصل امریکی صدر جارج بش کے دورے سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ امریکی صدر کا دورۂ پاکستان رسمی ہے لہذا حکومت بعد میں عوام کو یہ تاثر دینا چاہ رہی ہے کہ حزب اختلاف کے جلسوں کی وجہ سے امریکی صدرنے بھارتی حکومت کے برعکس پاکستان سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقے وزیرستان کے عوام سرحد پار سے ’اتحادی فوج‘ کے حملوں کے بعد پاکستانی فوج اور امریکہ کے سخت مخالف ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کو اس وقت مل کر ملک میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف تحریک کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘25 February, 2006 | پاکستان کارٹون معاملہ یواین میں: مشرف25 February, 2006 | پاکستان حکومت کےخلاف احتجاج کا اعلان26 February, 2006 | پاکستان لاہور کی ناکہ بندی، رہنما گرفتار26 February, 2006 | پاکستان لاہور میں احتجاجی مظاہرے کی تیاریاں26 February, 2006 | پاکستان قاضی حسین احمد پھر نظر بند 24 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||