BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 February, 2006, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کےخلاف احتجاج کا اعلان

لاہور میں ریلی ناکام بنانے کے لیے پولیس نے سخت اقدامات سے بھی گریز نہ کی
متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے لاہور میں اعلان کیا ہے کہ چھبیس فروری کو انتظامیہ کی جانب سے پارٹی کے امیر قاضی حسین احمد اور دیگر سینکڑوں لوگوں کی گرفتاری کے خلاف پیر کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اتوار کو متنازعہ کارٹونوں کے معاملہ پر احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کرنے ولے قاضی حسین احمد سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔

ادھر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے اتوار کی شام نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے لاہور میں ’ناموس رسالت‘ کی ریلی کو روک کر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویے کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی پابندی کے باوجود پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف حزب اختلاف کا احتجاج جاری رہے گا۔

مولانا فضل الرحمن تین گھنٹے تک پولیس کی تحویل میں رہنے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں دینی و سیاسی جماعتیں آل پارٹیز کانفرنس کر رہی ہیں جس میں ان ریلیوں پر حکومتی پابندی اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

چھبیس فروری کو لاہور میں حکومت نے سخت حفاظتی اقدام کے ذریعے متحدہ مجلس عمل کو ناصر باغ سے احتجاجی جلوس نہیں نکالنے دیا جبکہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، مسلم لیگ کے دو ارکان قومی اسمبلی پرویز ملک اور ایاز صادق سمیت سینکڑوں مظاہرین پولیس کی حراست میں ہیں۔

حکومت کا ’غیرجمہوری رویہ‘
 حکومت نے لاہور میں ’ناموس رسالت‘ کی ریلی کو روک کر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر کے آمرانہ اور غیر جمہوری رویے کا ثبوت دیا ہے۔
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان

مجلس عمل کے رہنماؤں کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو گرفتا رکرتے ہوئے انہیں لاتوں، مکوں، تھپڑوں اور لاٹھیوں سے مارا پیٹا۔ پولیس نے ایم او کالج کے ہاسٹل سمیت شہر کے مختلف کالجوں سے جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیموں سے تعلق کے شبہ میں طالبعلموں کی گرفتاریاں کی ہیں۔

جماعت اسلامی کے رہنما امیرالعظیم کا کہنا ہے کہ قاضی حسین احمد کو کس تھانہ یا ریسٹ ہاؤس میں حراست میں رکھا گیا ہے پولیس نے شام تک نہیں بتایا۔

جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد پولیس اور رینجرز کے گھیرے کو توڑ کر آج ریلی میں شرکت کے لیے ناصر باغ تو نہیں جاسکے لیکن انہوں نے سہ پہر کو اپنی پارٹی کے مرکز منصورہ کے سامنے سڑک پر کارکنوں سے خطاب کیا جس میں پولیس نے ابتدائی طور پر خلل تو نہیں ڈالا لیکن بعد میں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

نماز ظہر کے بعد جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں موجود دو ڈھائی سو افراد قاضی حسین احمد کو لے کر مرکزی دروازہ سے باہر نکل آئے تھے۔ جماعت کے کارکنوں نے پولیس کو دھکے دیے اور ان کی پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی۔جماعت اسلامی کے کارکن سڑک (ملتان روڈ) پر بیٹھ گئے جسے دونوں طرف سے ٹریفک کے لیے رات سے بند کردیا گیا تھا۔

فیروز پور روڈ اچھرہ میں جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی لیاقت بلوچ، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما پیر اعجاز ہاشمی اور جمعیت علمائے پاکستان کے رکن قومی اسمبلی عبدالغفور حیدری نے ایک مظاہرہ کی قیادت کی اور سہ پہر چند گھنٹوں کے لیے سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کرکے وہاں دھرنا دیا۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا۔

مسلم لیگ(نواز) کے ارکان اسمبلی ایاز صادق اور پرویز ملک نے مزنگ پر کارکنوں کے ہمراہ مظاہرہ کیا اور گرفتاری دی۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور گرفتاریاں کیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ان کے چالیس پچاس کارکنوں کے ساتھ سول سیکرٹریٹ کے پاس پولیس نے روک لیا اور تھوڑی دیر انارکلی تھانہ میں رکھ کر اپنی تحویل میں ان کے گھر زمان پارک پہنچایا۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ عمران خان گھر پر نظر بند ہیں کیونکہ باہر پولیس کا پہرا ہے لیکن نظربندی کے کوئی تحریری احکامات نہیں دیے گئے۔ تحریک انصاف کے درجنوں کارکن پولیس کی حراست میں بتائے گئے ہیں۔

عمران خان کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا

شہر کے دوسرے حصوں میں جماعت اسلامی اور اس کی نوجوانوں کی تنظیم شباب ملی کے کارکنوں نے جتھوں کی صورت میں مختلف مقامات پر مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جہاں ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ مال روڈ پر جماعت اسلامی کے کارکن ایک قریبی گلی سے نکل کر مسجد شہدا کی طرف بڑھے۔
ان مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھر پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی اور سو سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

ادھر راولپنڈی میں جب قائد حزب اختلاف اور مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان لاہور کی ریلی میں شرکت کرنے کے لیے گیارہ بجے کے قریب ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بھی پولیس اپنے ساتھ پکڑ کر لے گئی تھی اور تین گھنٹے انہیں حراست میں رکھا۔

پولیس اور رینجرز نے ہفتہ اور اتوار کی نصف شب سے پورے لاہور شہر میں جگہ جگہ ناکے لگا کر شان مصطفیٰ ریلی کے اعلان کردہ راستے کو جانے والی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کردی تھیں۔ لاہور کے بیشتر علاقوں میں سارا دن ایک علانیہ کرفیو کا سماں رہا جہاں عام لوگوں کی آمدورفت بند کردی گئی تھی۔

صبح ہی سے پورے شہر میں گلے میں بندوق لٹکائے ایلیٹ پولیس اور رینجرز کے جوان شہر کی بڑی سڑکوں اور چوکوں پر تعینات تھے اور انہوں نے جگہ جگہ ناکے لگائے ہوئے تھے۔شہر سے ملتان جانے والی شاہراہِ پاکستان کو، جس کے راستے میں جماعت اسلامی کامرکز منصورہ ہے، ٹریفک کے لیےبند کردیا گیا تھا۔ راوی پل، سگیاں پل اور کاہنہ میں بھی پولیس کے ناکے لگے ہوئے تھے۔ جماعت کے مرکز منصورہ کو چاروں طرف سے پولیس اور رینجرز نے گھیرے میں لے لیا تھا اوراس کے اندر اور باہر جانے کے راستے بند کردیے تھے۔

پنجاب یونیورسٹی، بڑے دینی مدرسوں جیسے جماعت الدعوۃ کے مرکز قادسیہ اور دیگر کالجوں جیسے سائنس کالج اوراسلامیہ کالج سول لائنز وغیرہ کے باہر بھی پولیس نے ناکے لگائے ہوئے تھے۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو اتوار کی صبح ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ لاہور میں آنے والے تمام سڑک کے راستوں، ریلوے سٹیشنوں اور ایرپورٹ پر پولیس کا کڑا پہرہ رہا۔

پیر کے روز احتجاج کے اعلان کے بعد امکان ہے کہ لاہور میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات رہے گی۔ شہر میں چودہ فروری کے واقعات کے بعد سے دس ہزار سے زیادہ پولیس اور تقریبا دو ہزار رینجرز کے جوان سڑکوں اور اہم سرکاری اور غیرملکی بینکوں کی عمارتوں کے باہر پہرہ دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
موگادیشو سے مظفر آباد تک
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد