موگادیشو سے مظفر آباد تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفر آباد میں آنے کے بعد مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں یہ تباہ حال آبادی پہلے دیکھ چکا ہوں حالانکہ اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ کے بعد میں پہلی دفعہ میں یہاں آیا ہوں۔ یہ خیال کئی دن تک مجھے پریشان کرتا رہا کہ مجھے مظفر آباد آئے بغیر یہ احساس کیوں ہے کہ یہ جگہ میری دیکھی بھالی ہے۔ ایک دن جب میں مظفر آباد کی تباہ ہال شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا تو یہ معمہ بھی حل ہو گیا۔ صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو کی تباہ حال گلیوں کے مناظر میرے ذہن میں آنا شروع ہو گئے جنہیں میں نے 1990 کی جنگ کے بعد دیکھا تھا۔ مظفر آباد اور موگادیشو کی مشترکہ چیز جو میرے ذہن میں آئی وہ ہیلی کاپٹر ہیں جو ہر وقت فضا میں نظر آتے ہیں۔ فرق یہ تھا کہ موگادیشو کو تباہی توپ خانے کی گولہ باری سے ہوئی جبکہ یہاں مظفر آباد میں یہ تباہی زلزلے سے آئی جس نے تقریباً ہر عمارت کوپٹخ کر رکھ دیا ہے۔ اکتوبر کے زلزلہ نے مظفر آباد کو ایسے تباہ کیا ہے جیسے کئی سالوں پر محیط صومالیہ کی جنگ نے موگادیشو کو تباہ کر دیا تھا۔ زلزلہ کے چار ماہ بعد پاکستان کی حکومت امدادی کارروائیوں کو مرحلہ وار ختم کرنا چاہتی ہے اور وہ امدادی مرحلے سے نکل کر تعمیراتی مرحلے میں داخل ہونا چاہتی ہے۔ پاکستان حکومت کے مطابق موسم سرما اکتیس مارچ سے ختم ہو جائے گا اور جہاں تک ممکن ہو سکے گا وہ زلزلہ متاثرین کو واپس بھیجنا شروع کر دیں گے۔ زلزلہ سے بہت سارے لوگوں کے نہ صرف گھر تباہ ہو چکے ہیں بلکہ ان کی زرعی زمین بھی دریا برد ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری کاشف مرتضیٰ نے مجھے بتایا کہ حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو بیرونی امداد کا عادی نہ بننے دیا جائے۔ چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ شہری علاقوں میں ضرورت سے زیادہ امدادی سامان جمع ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ سے متاثر ہونے والوں کے پاس سر چھپانے کے لیے خیمے اور خوراک موجود ہے جس سے کئی لوگوں نے کام ہی کرنا چھوڑ دیا ہے۔ خیمہ بستیوں میں مقیم لوگ واپس اپنے گھروں کو جانے سے خوفزدہ ہیں۔ خیمہ میں مقیم ایک شخص نے مجھے کہا ’وہاں دیکھو پہاڑ پر دھول اٹھ رہی تھی۔ یہ دھول لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اٹھ رہی ہے۔ وہاں میرا کھیت اور گھر تھا۔ نہ گھر رہا نہ کھیت، میں کہاں جاؤں ‘ متاثرین کو حکومت کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے امدادی فارمولے سے بھی اختلاف ہے۔ حکومت نے زلزلہ امداد فی خاندان کی بجائے فی گھر دینی شروع کر رکھی ہے۔بعض لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ان کو فی خاندان کی بیناد پر امداد ملی چاہیے۔ زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی امداد پر معمور پاکستانی فوج کے بارے میں بھی ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔ فوج کے بارے میں بعض لوگوں کے خیالات سے مجھے کوئی زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ پاکستان میں فوج اکتوبر 1999 کے بعد اقتدار میں ہے۔ انٹرنیشل کرائسس گروپ کی ثمینہ احمد کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج نے ہر کام میں اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔’ فوج بحالی کے کاموں میں مہارت نہیں رکھتی ہے اور یہ کام سویلین ادارے زیادہ بہتر انداز میں کر سکتے تھے۔‘ لیکن کئی لوگوں نے مجھے بتایا کہ فوج اچھا کام کر رہی ہے اور وہ فوج کے کردار سے مطمئن ہیں۔ جب میں نے ایک فوجی سے اس بارے میں پوچھا تو اس کا جواب تھا:’ ہم تو وہ کر رہے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے‘۔ | اسی بارے میں زلزلہ کے بعد تعمیر نو کی صورتحال31 December, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا14 February, 2006 | پاکستان کیا کریں آنسو نہیں تھمتے: متاثرین 22 December, 2005 | پاکستان ’قبر بن جائے مجھے بھی سکون ملے‘16 January, 2006 | پاکستان ’تعمیر نو: چار سال، 180 ارب روپے‘ 02 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||