زلزلہ کے بعد تعمیر نو کی صورتحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آّّٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ہونے والی تباہی کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے قائم کردہ ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد زبیر نے کہا ہے کہ تعمیراتی کام آئندہ چار برسوں میں مکمل ہوگا اور اس پر ایک سو اسی ارب روپے لاگت آئے گی۔ ’ارتھ کوئیک ری ہیبلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی، یعنی ’ای آر آر ا‘ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مظفرآباد، باغ، راولا کوٹ، مانسہرہ اور بٹ گرام کے اضلاع میں مختلف جگہوں پر دس تعمیراتی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ان مراکز میں مطلوبہ سامان کا ذخیرہ کیا جائے گا۔ سنیچر کے روز اسلام آباد میں ایوانِ تجارت وصنعت میں ’بلڈنگ مٹیریلز کانفرنس، سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیمی اداروں کے علاوہ چار لاکھ کے قریب منہدم مکانات نئے سرے سے تعمیر کرنے ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد زبیر نے تاجروں سے کہا کہ وہ تعمیراتی کام میں مطلوب سامان کی فراہمی کے لیے آگے آئیں تاکہ جلد سے جلد بے گھر افراد کے لیے نئے گھر بنانے میں آسانی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ہر متاثرہ خاندان کو پچیس ہزار روپے دیے جارہے ہیں اور اس کے علاوہ مکان بنانے کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے مزید دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق تاحال بائیس ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے ستر کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جس میں سے چھ کروڑ روپے حکومت اور چونسٹھ کروڑ روپے نجی شعبہ فراہم کرے گا۔ ’ای آر آر اے، کے سربراہ نے کے مطابق حکومت نے خوشحالی بینک سے کہا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں آسان شرائط پر چھوٹے قرضے تقسیم کریں تاکہ لوگ اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’نیسپاک‘ نے بالا کوٹ کا مطالعہ مکمل کرلیا ہے اور جاپانی کمپنی سے کہا گیا ہے کہ وہ سیاحت کی ترقی اور سوئی گیس کی فراہمی کے لیے منصوبہ شروع کرے۔ واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کے بدترین زلزلے میں تہتر ہزار افراد ہلاک اور سوا لاکھ کے قریب زخمی ہوئے۔ جبکہ تیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں آفات سے نپٹنے کے لیے ادارے کا قیام26 December, 2005 | پاکستان پاکستان میں ایک اور زلزلہ25 December, 2005 | پاکستان سینکڑوں زلزلہ زدہ بچے بیمار 24 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: 9000 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں23 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: ورلڈ بینک سے قرض کا معاہدہ22 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||