BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: ورلڈ بینک سے قرض کا معاہدہ

ورلڈ بینک کا لوگو
بلا سود قرض کے لیے سترہ کروڑ ڈالر کے چارجز ادا کرنے ہوں گے
جمعرات کے روز عالمی بینک اور حکومت پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت عالمی بینک آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے بعد پاکستان کو بحالی اور تعمیر نو کے لیے چالیس کروڑ ڈالر قرضہ دے گا۔

اقتصادی امور کی ڈویژن کے سیکریٹری خالد سعید اور عالمی بینک کے شعبہ آپریشن کے مشیر عابد حسن نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کے مطابق آسان شرائط پر ملنے والا یہ ’سافٹ لون‘ پاکستان کو پینتیس برس میں ادا کرنا ہوگا اور فریقین کی رضامندی سے ادائیگی کی مدت میں مزید دس سال کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

اس قرض پر پاکستان کو کوئی سود تو نہیں دینا پڑے گا لیکن 0.75 فیصد ’سروس چارجز‘ اور0.50 فیصد سالانہ ’کمٹمینٹ چارجز‘ (committment charges) کے طور پر ادا کرنے ہوں گے۔

چالیس کروڑ ڈالر کے قرض پر دونوں مدوں میں اگر ان چارجز کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر سالانہ ایک اعشاریہ دو پانچ کی شرح سے قابل ادا رقم پچاس لاکھ ڈالر بنتی ہے اور پاکستانی روپوں میں یہ رقم سالانہ تیس کروڑ روپے بنتی ہے۔

اس طرح اگر پاکستان مقررہ مدت یعنی پینتیس برس میں چالیس کروڑ ڈالر واپس بھی کرلے تو اس مدت کے دوران پاکستان ان چارجز کی مد میں پچاس لاکھ ڈالر سالانہ کے حساب سے ساڑھے سترہ کروڑ ڈالر یعنی دس ارب پچاس کروڑ روپے ادا کرچکا ہوگا۔

اس رقم خرچ کو کرنے کے لیے طریقہ کار بھی عالمی بینک نے طے کیا ہے۔ معاہدے کے مطابق اکیس کروڑ ڈالر گھروں کی تعمیر اور متاثرہ افراد کو بہتر تعمیراتی تربیت وغیرہ پر خرچ کرنے ہوں گے۔

ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر متاثرہ افراد کو زندہ رہنے کے لیے امداد دینے پر خرچ کرنے پڑیں گے۔ جس کے تحت چھ ماہ تک فی خاندان تین ہزار روپے ماہانہ نقد رقم بھی دی جا سکے گی جبکہ اتنی ہی رقم پاکستان انتہائی ضروری اشیاء کی درآمد پر خرچ کر سکے گا۔

عالمی بینک کے اس سافٹ لون میں سے دو کروڑ ڈالر نگرانی، عملدرآمد کے اقدامات اور فوری امداد وغیرہ پر خرچ کرنے ہوں گے۔

عمران خانعمران خان بتاتے ہیں
’قرضوں کی پیشکش کیوں مسترد کی جائے؟
گل میر خانقرضوں پر گزارہ
گریڈ نو کے ایک سرکاری ملازم کا بجٹ
اسی بارے میں
’امداد میں کمی آرہی ہے‘
13 December, 2005 | پاکستان
’نوّے فیصد خیمے غیر موزوں‘
02 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد