BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 December, 2005, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں ایک اور زلزلہ

قیامت خیز زلزلے کے بعد سے اب تک دو ہزار سے زائد جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کے روز زلزلےکے جھٹکے محسوس کیےگئے۔

کچھ سکینڈ جاری رہنے والے پہلے جھٹکے کے بعد لوگوں میں خوف و حراس پیدا ہوگیا ہے اور لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے ۔جو لوگ گھروں میں منتقل ہوگئے تھے ان میں سے کچھ لوگ دوبارہ خیموں میں رہنے پر سوچنے کے لئے مجبور کیا۔

زلزے کے جھٹکے اسلام آباد ، ایبٹ آباد، مانسہرہ ، بالاکوٹ، پشاور اور لاہور میں محسوس کیےگئے۔ اتوار کی جھٹکے کی ریکڑ اسکیل پر شدت پانچ اشاریہ دو بتائی جاتی ہے ۔اس زلزے کا مرکز پشاور کے شمال مشرق میں دو سو کلومیڑ دور ہزارہ ڈویژن میں تھا۔

مظفرآباد میں زلزلے کے جھٹکے یہاں کے مقامی وقت کے مطابق دن کے ایک بج کر دومنٹ پر محسوس کیے گئے۔ آٹھ اکتوبر کو آنے والے تباہ کن زلزے کے بعد کشمیر کے اس علاقے کے متاثرہ علاقوں میں ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے خوف نہیں نکل سکا ہے اور درمیانے یا کم شدت والے زلزلوں کے جھٹکے لوگوں کو خوف زدہ کردیتے ہیں ۔

کالج کے طالب علم تابش عباسی نے کہا کہ میں اس وقت گھر میں کمپییوٹر پر گیم کھیل رہا تھا کہ ایک بڑا جھٹکا آیا میں فوراً گھر سے باہر بھاگا اور دوسرے گھر والے بھی خوف کے مارے چیختے ہوئے باہر نکل آئے۔‘

انھوں نے کہا کہ’جب جھٹکا ختم ہوا پھر ہم گھر کے اندر واپس گئے۔ ہمارے پاس خیمہ لگانے کی جگہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم گھر میں ہی رہتے ہیں۔‘

آٹھ اکتوبر کے زلزے میں کشمیر کے اس علاقے کے متاثرہ علاقوں میں جن لوگوں کے گھروں کو نقصان نہیں پہنچا تھا وہ بھی خوف کے مارے کافی عرصہ تک گھروں میں داخل نہیں ہوئے اور خیموں میں ہی رہنے میں عافیت محسوس کی لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کا خوف کم ہوتا گیا اور وہ دوبارہ گھروں منتقل ہوگئے۔

لیکن اتوار کے جھٹکے نے کچھ لوگوں کو دوبارہ خیموں میں رہنے پر سوچنے کے لئے مجبور کیا۔ یاسمین امتیاز کا مظفرآباد شہر میں آٹھ اکتوبر کے زلزے میں تباہ ہوگیا اور آج کل وہ شہر سے باہر نلوچھی میں اپنے تین بچوں اور شوہر کے ہمراہ ایک کرائے کے مکان میں رہتی ہیں۔

یاسمین نے کہا کہ ’میں کچن میں کام کررہی تھی جب جھٹکا ہوا۔ ہم بہت خوفزدہ ہوگئے کیونکہ شدید جھٹکا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے فوراً بچوں کو آواز دی اور میں ان کو لے کر باہر نکل گئی۔ انھوں نے کہا کہ میرے بھائی نے پیغام بھیجا کہ ہم گھر میں نہ رہیں بلکہ ان کے گھر جائیں جہاں انھوں نے پانچ چھ خمیے نصب کئے ہیں‘۔

یاسمین نے کہا کہ ’ ہم اب ادھر ہی جارہے ہیں اور خیموں میں رہیں گے اور ہم گھر میں نہیں رہیں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ’ ہم ایسا گھر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو زلزے کے جھٹکوں کا مقابلہ کرسکےاور ہمیں کوئی خطرہ نہ ہو۔‘

اتوار کے زلزلے کی شدت ریکڑ اسکیل پر پانچ اشاریہ دو بتائی جاتی ہے ۔اس زلزے کا مرکز پشاور کے شمال مشرق میں دو سو کلومیڑ دور ہزارہ ڈویژن میں تھا ۔

پاکستان اور کشمیر میں آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزے کے بعد سے اب تک پندرہ سو سے زائد جھٹکے محسوس کئے جاچکے ہیں ۔آٹھ اکتوبر کے زلزے میں پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے نو ہزار لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد