آفات سے نپٹنے کے لیے ادارے کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے بتایا ہے کہ حکومت نے ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ’فیڈرل ڈزاسٹر ریلیف منیجمینٹ ایجنسی‘ (فیڈریما) قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں زمین بوس ہونے والے مرگلہ ٹاور اور دیگر زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والے کچھ رضا کاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ایجنسی میں تمام متعلقہ حکومتی محکموں اور سماجی شعبے کے لوگ شامل ہوں گے۔ زلزلے سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیےقائم ہونے والی یہ ایجنسی مشکل وقت میں نہ صرف مقامی سطح پر لیکن بیرونی سطح پر متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرکے امدادی کارروائیاں یقینی بنائے گی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ قدرتی آفات میں فوری اور منظم اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اس ایجنسی جیسے ایک منفرد ادارے کا قیام لازمی تھا۔ وزیراعظم ہاؤس میں رضا کاروں سے ہونے والی اس ملاقات میں انہوں نے ان سے زلزلے سے ہونے والی تباہی اور امدادی کاموں کی تفصیلات بھی پوچھیں۔ ایک خاتون ڈاکٹر زینب منصور نے وزیراعظم ک بتایا کہ جب ایک زلزلہ زدہ خاتون کی زندگی بچانے کے لیے ان کا بازوں کاٹا تو یہ ان کی زندگی کا ایک بڑے صدمے کا موقع تھا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر رضا کاروں میں شیلڈز اور نقد انعامات بھی تقسیم کیے اور کہا کہ جہاں پاکستانی عوام نے اس مشکل گھڑی میں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی وہاں بیرون ممالک سے آئے ہوئے امدادی کارکنوں نے بھی اپنی مثال آپ کوششیں کیں۔ پاکستان میں ویسے تو شہری دفاع سمیت کئی سویلین ادارے موجود ہیں لیکن قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مخصوص سویلین ادارے کا قیام اپنی نوعیت کا ایک پہلا واقعہ ہوگا۔ یہ ایجنسی کتنی با اختیار ہوگی اور کس قسم کی قدرتی آفات سےنمٹنے کی ان کے پاس صلاحیت اور آلات ہوں گے یہ تاحال واضح نہیں۔ | اسی بارے میں ’دو ماہ بعد ملبے سے زندہ برآمد‘12 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین10 December, 2005 | پاکستان کشمیر کی فراموش وادی20 December, 2005 | پاکستان مظفرآباد: ملبے کا کیا ہوگا؟21 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: 9000 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں23 December, 2005 | پاکستان سینکڑوں زلزلہ زدہ بچے بیمار 24 December, 2005 | پاکستان پاکستان میں ایک اور زلزلہ25 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||