’دو ماہ بعد ملبے سے زندہ برآمد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرآْباد کے قریب کمسر مہاجر کیمپ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی ایک خاتون کو دو ماہ سے زائد گزر جانے کے بعد زندہ نکال لیا گیا ہے۔ دس دسمبر کو ملبہ ہٹاتے وقت اس چالیس سالہ خاتون کو زندہ پایا گیا۔ اس خاتون کا نام نقشہ بی بی بتایا گیا ہے اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان کے دو بھائی اور ماں اور والد اس زلزلے میں ہلاک ہوگئے۔ گزشتہ دو دنوں سے یہ خاتون مقامی لوگوں کے پاس تھیں لیکن آج بارہ دسمبر کو جب جرمن ڈاکٹروں کی ایک ٹیم وہاں پہنچی تو لوگوں نے اطلاع دی کہ یہ خاتون ملبے کے نیچے سے نکلی ہیں اور کچھ کھا پی نہیں رہی ہیں۔ جرمن ڈاکٹروں نے پاکستان اسلامِک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ رابطہ کیا کیوں کہ وہ خود مقامی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے، تو اس تنظیم کے ڈاکٹر وہاں گئے اور اس خاتون کو لیکر مظفرآباد آئے۔ مظفرآباد میں ڈاکٹر ان خاتون کا طبی معائنہ کررہے ہیں تاکہ ان کی حالت کا صحیح پتہ ہوسکے۔اس کے بعد ہی ان کے لیے خصوصی طبی اور دیگر امداد فراہم کی جائے گی۔ | اسی بارے میں ’بچیوں کو بچالو‘02 November, 2005 | پاکستان ’سب آگے بھیج دیتے ہیں‘ 03 November, 2005 | پاکستان متاثرین اب بھی محروم17 November, 2005 | پاکستان ’ماں باپ کے مرنے کے بعد سب سے اچھی خبر‘30 October, 2005 | پاکستان ’آفات سے نمٹنے کا طریق کار بدلیں‘23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||