مظفرآباد: ملبے کا کیا ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں میں جو ایک چیز وافر مقدار میں ہے وہ ہے عمارتی ملبہ۔ کئی شہروں اور قصبوں میں ملبے کے یہ ڈھیر شاید سالوں تک نظر آتے رہیں لیکن کچھ لوگوں نے، خاص طور پر کاروبار سے منسلک افراد نے ملبے کو ہٹانے کا کام شروع کر رکھا ہے تاکہ وہ نئی عمارتیں تعمیر کر کے جلد اپنا روزگار چلانے کے قابل ہو سکیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے جس کا جہاں جی چاہتا ہے ملبہ ڈھیر کر دیتا ہے۔ اس سے انفرادی مسئلے تو حل ہو رہے ہیں لیکن کئی قسم کے اجتماعی مسائل کی بنیاد بھی رکھی جا رہی ہے۔ مظفر آباد میں دو دریاؤں کے سنگم پر واقع شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کا آدھا حصہ زلزلے سے منہدم ہو گیا تھا۔بچے ہوئے حصے کی مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ کئی روز سے یہاں ملبہ اٹھانے کا کام بھی جاری ہے۔ اس کام کی نگرانی ٹھیکیدار خانزادہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ملبے کو دریائے جہلم کے کنارے، شہر سے ذرا باہر ڈھیر کر رہے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا کہ انہوں نے اسی جگہ کا انتخاب کیوں کیا تو وہ کہتے ہیں ’اس لیے کہ باقی سب لوگ بھی وہیں ملبہ پھینک رہے ہیں’۔ ملبے سے لدی دو ٹریکٹر ٹرالیوں کو لے جانے والوں سے جب میں نے یہی سوال پوچھا تو ان کا جواب بھی خانزادہ کے جواب سے ملتا جلتا تھا۔ وہ بھی اس ملبے کو شہر سے ذرا باہر دریا کے کنارے پھینکنے جا رہے تھے اور انہیں بھی کسی سرکاری یا غیر سرکاری ذریعے سے نہیں بتایا گیا تھا کہ ڈمپنگ کے لیے کونسی جگہ مناسب یا غیر مناسب ہے۔ مظفر آباد میں ہی حکومت کے وہ ذمہ دار لوگ بھی موجود ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کے لیے رہنما اصول بنائیں اور ان پر عمل کروائیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں یہ ذمہ داری ورکس ڈیپارٹمنٹ کے چیف انجینیئر چوہدری فضل حسین کی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس معاملے میں گائیڈ لائن ہے کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ’نجی عمارتوں کے ملبے کو ہٹانے کے لیے ابھی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔ پہلے ماسٹر پلاننگ ہو گی اس کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ یہ ملبہ ہٹانے کا کام کس طرح ہو گا۔ تاہم سرکاری عمارات کے ملبے کی ڈمپنگ کے لیے جگہوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے‘۔ جب ان کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ صرف مظفر آباد شہر میں درجنوں کے حساب سے ٹریکٹر ٹرالیاں روزانہ اپنی سہولت کے حساب سے ملبہ کہیں بھی ڈھیر کر رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں۔ ابھی تو صرف ماسٹر پلاننگ کی بات کی جا رہی ہے، ملبے کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے جب تک سرکاری سطح پر پالیسی بنے گی تب تک شہری آبادیوں سے باہر کہاں کہاں ملبے کے پہاڑ کھڑے ہو چکے ہوں گے اور ان سے صحت اور ماحولیات کے کیا کیا مسائل پیدا ہو چکے ہوں گے، اس بارے میں حکومتی سطح پر ابھی کوئی سوچ بھی نہیں رہا۔ | اسی بارے میں زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش07 December, 2005 | پاکستان ’بحالی کی امید کی کوئی کِرن نہیں‘08 December, 2005 | پاکستان لاشوں کے بعد سریے کی تلاش12 December, 2005 | پاکستان کام بے تحاشا مگر کرنے والے کم17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||