BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 December, 2005, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کام بے تحاشا مگر کرنے والے کم

مقامی مزدور
موجودہ حالات میں مزدوروں کی دیہاڑی بھی تقریباً دگنی ہو چکی ہے
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کے لیے مقامی مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے صوبہ سرحد اور افغانستان کے محنت کش تباہ شدہ علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کہنے کو تو زندگی معمول پر واپس آ چکی ہے لیکن آٹھ اکتوبر کو آنے والی تباہی کی یادیں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں۔ کہیں ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، کہیں مرمت ہو رہی ہے اور کہیں نئے سرے سے تعمیر۔ کچھ عمارتیں کھڑی تو ہیں لیکن انہیں استعمال کرنے کے لیے پہلے انہیں گرانا اور ان کا ملبہ ہٹانا ضروری ہے۔

اس کام کے لیے مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد، ایک لمبے عرصے تک درکار ہوگی۔ مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں میں مزدور دستیاب نہیں ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہری مراکز سے جوں جوں دور ہوتے جائیں روزگار کے مواقع کم ہوتے جاتے ہیں۔ دیہات میں رہنے والوں کا سب سے بڑا ذریعہ معاش مزدوری ہے جس کے لیے وہ مظفرآباد، راولپنڈی اور کراچی تک جاتے ہیں اور جنہیں موقع ملا وہ خلیجی ممالک تک جا پہنچے ہیں۔

زلزلے کے بعد ان میں سے بیشتر لوگ واپس اپنے خاندانوں کے پاس آ گئے ہیں اور جب تک ان کے سروں پر ایک محفوظ چھت اور سردیوں کے لیے خوراک کا بندوبست نہیں ہوتا وہ اپنے گاؤں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

لائن آف کنٹرول پر واقع چکوٹھی سے آٹھ دس کلومیٹر ادھر چناری قصبے میں ہی ملبہ ہٹانے اور تعمیر نو کا کام اتنا ہے کہ آس پاس کے دیہات کے تمام مرد اس کام پر لگ جائیں تو بھی مہینوں تک ان کا روزگار چلتا رہے گا۔ پھر موجودہ حالات میں مزدوروں کی دیہاڑی بھی تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود یہاں ہر کوئی مزدوروں کی کمیابی کی شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے پورے خاندان کے ساتھ خیمہ بستی میں رہنے والے سید مسکین شاہ کاظمی بھی جلد از جلد اپنے مکان کی مرمت کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں یا تو مزدور نہیں ملتے اور اگر ملتے ہیں تو اپنی دیہاڑی بہت زیادہ مانگتے ہیں۔

 موجودہ حالات میں مزدوروں کی دیہاڑی بھی تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود یہاں ہر کوئی مزدوروں کی کمیابی کی شکایت کرتا سنائی دیتا ہے۔

راشد بشیر اپنے والد کے ساتھ مل کر چناری میں ایک نجی ہسپتال چلاتے ہیں جس کی عمارت اب قابل استعمال نہیں رہی۔ انہیں مزدوروں کی تلاش میں جو دقت ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار وہ امدادی عمل کو قرار دیتے ہیں جس نے، ان کے بقول، محنت کشوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی بجائے انہیں مفت خوری کی عادت ڈال دی ہے۔ اس سے پہلے وہ تین مرتبہ مزدوروں کو یہاں وہاں سے ڈھونڈ کر لا چکے ہیں اور ہر مرتبہ اوقات اور دیہاڑی پر تکرار کے بعد مزدور کام چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

لیکن اسی علاقے کے مزدوروں سے بات کریں تو وہ آپ کو تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ وہ خود بھی تو متاثرین میں سے ہیں۔ وہ اپنے گھروں کو دیکھیں یا مزدوری کریں۔ راجہ محمد خان جو اب دکان چلاتے ہیں لیکن اس سے پہلے مزدوری کر چکے ہیں اور مزدور کے حالات کو ہمدردی کی نظر سے دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ جن کے اپنے گھروں کی چھت نہیں وہ امداد کے لیے قطاروں میں کھڑے ہوں یا شہروں میں جا کر کام کریں!

وجہ مجبوری ہو یا کچھ اور، یہاں کام بے تحاشا ہے اور کام کرنے والے بہت کم۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے اقتصادیات کا طلب اور رسد کا اصول حرکت میں آ چکا ہے اور دوسرے علاقوں سے مزدور یہاں پہنچنے لگے ہیں۔ چناری کی ٹوٹی ہوئی مسجد شریف پر کام کرنے والے بارہ مزدور چند روز پہلے ہی پاراچنار سے یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی میں سنا تھا کہ کشمیر میں بہت کام ہے اور اس کے دام بھی اچھے ملتے ہیں۔

راشد بشیر کے ہسپتال کی عمارت پر کام کرنے والے مزدور افغانستان کے صوبہ لغمان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں زیادہ دیہاڑی کی پیشکش کر کے گڑھی حبیب اللہ سے یہاں لایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک محمد جان بتاتے ہیں کہ زلزلے سے پہلے وہ ڈیڑھ سو روپے روزانہ لیا کرتے تھے، اب ان کا ریٹ ڈھائی سو ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب روٹی اور چائے کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے تو وہ اپنے کام کی قیمت کیوں نہ بڑھائیں؟

آج اس علاقے میں مزدوروں کی ضرورت ہے تو وہ جہاں سے بھی آئیں، اور جس قیمت پر بھی آئیں انہیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ لیکن جب یہ لوگ یہاں اپنی جگہ بنا لیں گے، اور کام تھوڑا رہ جائے گا تو مقامی اور غیر مقامی مزدور کے درمیان روزگار پر مسابقت کوئی منفی رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن یہ کل کا مسئلہ ہے۔ یہاں تو لوگوں نے ابھی صرف آج میں رہنا سیکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد