’ہر جگہ امداد نہیں پہنچی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری بیانات اور حالیہ میڈیا رپورٹس سے یہ تاثر ملنے لگا ہے کہ زلزلے سے متاثر افراد کی بحالی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب تک کم از کم بنیادی ضروریات ہر متاثرہ آبادی تک پہنچ چکی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جو آبادیاں سڑک کے نزدیک واقع ہیں، اور وہ سڑک ٹریفک کے لیے کھلی ہے، وہاں تو یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے۔ لیکن سڑک سے پرے، پہاڑوں کی ڈھلوان پر بکھری چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں آج بھی وہ محرومی اور غصہ موجود ہے جو امدادی کارروائی کے ابتدائی دنوں میں شہروں اور قصبوں میں دیکھنے کو ملتا تھا۔ وادئ نیلم کے ایک بڑے قصبے پٹیکا میں سڑک کے کنارے فاصلے فاصلے سے فوج کے تین امدادی مراکز قائم ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی امدادی ادارے بھی یہاں سرگرم ہیں، اور ایک فیلڈ ہسپتال بھی موجود ہے۔ یہاں کسی سے بھی بات کریں اسے فوجی اہلکاروں کے رویے سے تو شکایت ہو سکتی ہے لیکن امدادی سامان کی کمی کا ذکر کوئی نہیں کرتا۔ لیکن پٹیکا سے صرف سات کلومیٹر اوپر حالات ایک دم بدل جاتے ہیں۔ معروف سیاحتی مرکز پیر چناسی کے دامن میں واقع اس گاؤں کا نام بسنت کوٹ ہے۔ یہاں تک پہنچنے کا واحد راستہ ایک اونچی نیچی پگڈنڈی ہے۔ بسنت کوٹ میں ڈھائی سو کے قریب خاندان آباد ہیں جن میں سے کسی ایک کے سر پر بھی پختہ چھت نہیں بچی۔
امدادی کاموں میں مصروف فوجی افسران کا کہنا ہے کہ وہ سرد موسم کو جھیلنے والے شیلٹر بانٹنے میں بالائی علاقوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن بسنت کوٹ زیریں علاقے میں نہیں آتا، اور نہ ہی شاید اسے بالائی علاقے میں شمار کیا جاتا ہے۔ سفید داڑھی والے محمد حسین کو یہ عارضی اور کمزور چھت بھی میسر نہیں۔ ان کا ایک بیٹا زلزلے میں مارا گیا، ایک زخمی ہوا اور تیسرا اپنے بھائی کو علاج کی غرض سے راولپنڈی لے کر گیا ہے۔ اب محمد حسین سات پوتے پوتیوں کے ساتھ لکڑی اور پرانے کپڑوں سے بنائی گئی ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ جو شخص ان کے لیے خیمہ لینے پٹیکا کے امدادی کیمپ گیا تھا اسے کہا گیا کہ ضرورتمند کو خود وہاں آنا ہو گا۔ محمد حسین اتنی دور چل کر نہیں جا سکتے تھے اس لیے انہوں نے گاؤں والوں کی مدد سے ایک جھونپڑی تیار کر لی۔
اس گاؤں میں کسی کو معاوضہ نہیں ملا، کسی کو جستی چادریں نہیں ملیں، اور راشن کے لیے اب بھی لوگوں کو ہر ہفتے قطاریں لگانی پڑتی ہیں۔ جبکہ ذرا نیچے پٹیکا میں ہر چیز موجود ہے۔ محمد الیاس جو شہر میں محنت مزدوری کرتے ہیں، انہیں اپنے نقصانات کو رجسٹر کروانے کے لیے آدھ گھنٹہ اہلکاروں کی خوشامد کرنی پڑی تھی۔ پھر بھی جب وہ امدادی کیمپ پہنچا تو سارا دن انتظار کروانے کے بعد اسے بتایا گیا کہ فہرست میں اس کا نام نہیں۔ اس کے بعد اس نے کبھی کیمپ کا رخ نہیں کیا۔ گل زمان کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی اس لیے ہوتی ہے کہ وہ سڑک سے دور ہیں اور ان کے گاؤں میں کوئی پیسے یا پہنچ والا آدمی نہیں رہتا۔ ’ہمیں پیدل امدادی کیمپ جاتے ہوئے ڈیڑھ دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ شہر کے لوگ پہلے ہی وہاں ہوتے ہیں۔ شام کو جب ہماری باری آتی ہے تو یا تو امدادی سامان ختم ہو چکا ہوتا ہے یا کام کرنے والوں کا وقت۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ کل آ جانا، پرسوں آ جانا۔ بس یہی ہوتا رہتا ہے۔ جس گاؤں میں کوئی پہنچ والا ہوتا ہے وہاں سب کچھ پہنچ جاتا ہے‘۔ بسنت کوٹ بڑی سڑک سے زیادہ دور نہیں۔ اسی راستے پر تین چار گھنٹے پیدل فاصلے پر بہت سی چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں، اور کشمیر میں ایسے بے شمار پہاڑ اور ان گنت بستیاں ہیں۔ ان میں چند کے پاس بہت کچھ ہے، باقی بسنت کوٹ کی طرح اپنی محرومی کے شکوے کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔ | اسی بارے میں متاثرین اب بھی محروم17 November, 2005 | پاکستان ایک ماہ میں، میں نے کیا دیکھا؟08 November, 2005 | پاکستان 'زلزلے کے بعد سے بچنا مشکل ہے'14 October, 2005 | پاکستان والدین مرگئے، سر پر چھت نہیں14 October, 2005 | پاکستان امدادی کام کی رفتار پر ردًِ عمل09 October, 2005 | Debate دیہات تباہ، بستیاں اجاڑ، موت ہی موت11 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||