BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 December, 2005, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جسم و جان کا رشتہ ٹوٹنے والا ہے‘

امدادی ہیلی کاپٹر
علاقے کے لوگوں کی امید ہیلی کاپٹروں سے بندھی ہے
پاکستان ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ اس کے بعض شمالی حصے اگر ایک طرف غیرمعمولی خوبصورتی لیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف انہی میں سے کچھ علاقے اتنے دورافتادہ اور دشوار گزار ہیں کہ ان تک صرف رسائی بجائے خود ایک بڑی مہم بن جاتی ہے۔

انہی خوبصورت مگر دشوارگزار علاقوں میں سے ایک صوبۂ سرحد کے پہاڑی ضلعے کوہستان کی تحصیل پتن میں پالس کی وادی ہے۔

موسم سرما کے آغاز سے ہی برف کی چادر اوڑھے بلندو بالا پہاڑوں اور سرسبز جنگلات سے گھری یہ وادی قدرتی حسن سے مالامال ہے لیکن ساتھ ہی اس کے بہت سے علاقے اس قدر دورافتادہ اور دشوار ہیں کہ ان تک جانے والے راستوں پر دستیاب ٹرانسپورٹ کا مطلب یا تو آدمی کی اپنی دو ٹانگیں ہیں یا پھر گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی چار۔ ایسا ہی ایک علاقہ کنڈول کا گاؤں ہے۔

کنڈول پتن کی تحصیل میں آتا ہے اور یہاں سے پتن تک کا یکطرفہ سفر عام حالات میں چوبیس گھنٹے لیتا ہے جبکہ زلزلے کے نتیجے میں اگر یہ اور اس کے آس پاس کی آبادیاں مثلاً شام بیلہ اور ہدرہ وغیرہ چاہے جانی اور مالی نقصان سے بچ گئی ہوں، راستوں کے بند ہونے کی وجہ سے ان تک زمینی رسائی ناممکن ہوگئی ہے۔

موسم سرما میں اس علاقے میں بارہ فٹ سے زیادہ برف پڑتی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں برفباری میں شدت آنے کی صورت میں راستے اگر بحال کر بھی دیے گئے تو بھی تقریباً اپریل کے وسط تک کے لیے دوبارہ بند ہوجائیں گے۔

علاقے کے لوگ شدید سردی میں بھی نیچے نہیں جاتے

اسی مشکل رسائی نے تقریباً سات ہزار فٹ بلند کنڈول اور شام بیلہ جیسے علاقوں کے لیے یہ نازک سوال پیدا کردیا ہے کہ اس کے باسی اس بار موسم سرما کیسے گزار پائیں گے۔

کنڈول کے ایک مکین عبدالکریم نے مجھے بتایا کہ عموماً یہاں کے لوگ اپریل سے لے کر اگست اور ستمبر تک مکئی کاشت کرتے ہیں جس کو برفباری کے دنوں میں آٹے کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

اگست سے نومبر کے وسط یا آخر، جب تک بھی شدید برفباری راستے بند نہیں کرتی تھی، یہاں کے مکین باقی خوراک اور دیگر اشیائے ضروری جمع کرتے تھے۔

انہی دنوں یہ لوگ اپنے مویشیوں کے لیے گھاس پھونس اور چارہ وغیرہ بھی ذخیرہ کرلیتے تھے۔ یہ سب جمع شدہ خوراک دسمبر سے اپریل تک ان کے کام آتی تھی اور اسی کے سہارے یہ سخت کوش اور بہت سادہ لوگ موسم سرما گزار لیتے تھے۔

ان میں سے بہت تھوڑے لوگ سردیوں کے موسم میں نیچے کے علاقوں مثلاً پتن یا مانسہرہ وغیرہ آتے ہیں۔ نیچے نہ آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کنڈول کی مسجد کے قاری محمد قاسم نے بتایا کہ چونکہ یہاں کے لوگ قطعاً غیر ہنرمند اور بالکل غیر تعلیم یافتہ ہیں، اس وجہ سے نیچے کے علاقوں میں رہائش کی دشواری کے علاوہ ان کے لیے واحد کام مشقت اور مزدوری ہی رہ جاتا ہے لیکن اس میدان میں نیچے کے لوگوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر سبقت حاصل ہوتی ہے۔

لوگوں کے لیے زندگی کی جدوجہد مشکل ہو چکی ہے

محمد قاسم کے بقول اس کے برعکس موسم سرما کے شدید دنوں میں ان لوگوں کے لیے اپنے علاقوں میں بہرحال یہ فائدہ ہوتا ہے کہ چاہے بہت تھوڑی لیکن ان کی آبائی زمین ہوتی ہے جہاں وہ اپنے مال مویشی رکھ سکتے ہیں یا گھر برقرار رکھ سکتے ہیں۔

کنڈول اور آس پاس کے علاقوں میں گھروں کا خاصا حصہ زمین کے نیچے یا پہاڑ کے اندر بنا ہوتا ہے۔ اس طرح سے لوگوں کے لیے خود کو اور اپنے مال مویشی کو گرم رکھنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ گیس اور بجلی جیسی ضروریات ایسی آسائشیں ہیں جن کا یہاں کے لوگوں کے لیے کوئی مطلب نہیں ہے۔

ایک اور شخص شیرغازی نے مجھے بتایاکہ اس علاقے میں نزلہ اور کھانسی جیسی ہلکی پھلکی بیماریوں کے علاج کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ہاں اگر اپریل تا نومبر کوئی آدمی بیمار پڑجائے تو دو چار آدمی اسے لیکر کر قریب ترین سرکاری ہسپتال جاتے ہیں تاکہ اس کا علاج کرایا جائے۔ جبکہ دسمبر سے اپریل کے مہینوں میں ایسی ضرورت پڑنے پر واحد علاج دعائیں ہی ہوتی ہیں۔

متاثرہ آبادی کو خوراک کی فراہمی شروع ہو چکی ہے

محمد قاسم کے بقول برفباری کے دنوں میں اگر کسی آدمی کی وفات ہوجائے تو اس کی تدفین بھی دو دو دن لے لیتی ہے کیونکہ زمین میں قبر کھودنے سے پہلے بارہ تیرہ فٹ برف کھودنی پڑتی ہے۔ بصورت دیگر موسم سرما میں دفن کی ہوئی لاش موسم گرما میں برف پگھلنے پر باہر آجاتی ہے۔

زلزلے کے نتیجے میں کنڈول جیسے بے شمار گاؤں ہیں جہاں لوگوں کے لیے زندگی کی جدوجہد اب یوں مشکل تر ہوچکی ہے کہ راستے بند ہونے سے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے وہ تمام ذرائع اور طریقے اب دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں جن کے زور پر اب تک سانس کی ڈوری چلتی تھی۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جدید ترین سہولیات اور آسائشوں سے سینکڑوں میل دور، کنڈول اور شام بیلہ جیسے نہ جانے کتنے گاؤں ہیں جہاں شائد ہزاروں جیتے جاگتے انسان زندگی کی نوید سننے کے لیے آسمان کی جانب تک رہے ہیں اور پیدا کرنے والے کے بعد ان کی واحد امید شائد خوراک لانے والے ہیلی کاپٹروں کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ ہے۔

اسی بارے میں
زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال
08 December, 2005 | پاکستان
زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد