زلزلہ: 9000 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کے بعد سے اب تک نو ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ خیال یہی ہے کہ یہ لوگ ابھی بھی منہدم شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق صوبہ سرحد سے بتایا جاتا ہے۔ پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں صحافیوں کو ایک بریفنگ میں پہلی دفعہ زلزلے سے لاپتہ ہونے والوں کی حتمی تعداد کے بارے میں بتایا۔ اس لحاظ سے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی بڑھ کر بیاسی ہزار سے اوپر چلی گئی ہے۔ ریلیف کمشنر کے مطابق عام طور پر ایسے حادثات میں لاپتہ ہونے والے افراد کو مردہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی جگہوں سے ابھی تک ملبہ اٹھایا نہیں جا سکا ہے اور نہ ہی تمام لاشیں اس ملبے سے نکالی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے فراہم کیے ہیں۔ وفاقی ریلیف کمشنر کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی والے علاقوں میں دو لاکھ تیرہ ہزار سے زائد عارضی پناہ گاہیں بنا کر دی جا چکی ہیں جبکہ متاثرین اور جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں سولہ ارب روپے سے زاید تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب امدادی آپریشن کو پانچ ہزار فٹ سے نچلے علاقوں کی طرف مرکوز کیا جا رہا ہے۔ میجر جنرل فاروق کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں توجہ بدستور لوگوں کو عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنے پر ہی مرکوز رکھی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ خیموں کو گرم رکھنے اور لوگوں کو خوراک پہنچانے کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا تاکہ وہ علاقے جو کچھ عرصے بعد برف سے ڈھک جائیں گے ان میں کسی قسم کی مشکلات پیدا نہ ہوں۔
ریلیف کمشنر کے مطابق کیوبا نے زلزلے سے متاثرہ بتیس فیلڈ ہسپتال مقامی انتظامیہ کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے جس کے باعث کیوبن ڈاکٹروں کی وطن واپسی کے باوجود یہ ہسپتال بدستور متاثرہ علاقوں میں کام کرتے رہیں گے۔اس سے قبل ایرانی ڈاکٹروں کی ٹیم اپنا فیلڈ ہسپتال مقامی انتظامیہ کے حوالے کر کے جا چکی ہے۔ ریلیف کمشنر کے مطابق پاکستان نے تمام غیر ملکی فیلڈ ہسپتال کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس وقت زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں چوالیس غیر ملکی فیلڈ ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ میجر جنرل فاروق نے مظفرآباد کے قریب ہٹیاں بالا کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بننے والی جھیلوں کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے جو وزیر اعظم شوکت عزیز کو چھبیس دسمبر کو منظوری کے لیے بھیج دیا جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ ان جھیلوں سے نشیبی آبادیوں کو درپیش خطرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جھیلوں میں بھرنے والے پانی کی مقداد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے جس سے ان جھیلوں کے برسٹ ہونے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا زلزلے کے بعد مختلف شہروں میں آ جانے والے لوگ اگلے برس سردی ختم ہونے کے بعد واپس جائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ یہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے ان غیر ملکی امدادی ایجنسیوں کے اہلکار اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھیجے گئے فوجی و امدادی ٹیموں کے اراکین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے غرض لوگ کرسمس کا تہوار بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں متاثرہ افراد کے ساتھ منائیں گے جو لائق تحسین ہے۔ |
اسی بارے میں زلزلہ زدگان کےلیے بھارتی نرم سٹیل 04 December, 2005 | پاکستان آڈیو، ویڈیو زلزلہ08 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں10 December, 2005 | پاکستان جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ13 December, 2005 | پاکستان پشاور:زلزلہ زدگان کی اجتماعی شادی17 December, 2005 | پاکستان زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟21 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: ورلڈ بینک سے قرض کا معاہدہ22 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||