زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتوبر میں آنے والے زلزلے نے جہاں اور کئی مسائل کی نشاندہی کی ہے وہیں سالہا سال کے تنازع سے خون آلود ہوئی سرزمینِ کشمیر کے مسئلے کو بھی اجاگر کردیا ہے۔ حال ہی میں صدر پرویز مشرف نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو مستقل طور پر حل کرنے میں مدد کرے۔ ان کا کہنا تھا ’میں سچے دل سے امید کرتا ہوں کہ زلزلہ کی یہ افتاد اس مسئلے کو حل کرنے کا بہانہ بن جائے‘۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان کا کہنا ہے کہ کشمیر دنیا کی 131 خودمختار ریاستوں سے بڑا ہے پھر کشمیر کو آزادی سے محروم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ پاکستان کی دینی جماعتیں زلزلہ کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں امدادی کارروائیوں میں سرگرم عمل ہیں۔ جماعت الدعوٰۃ نے مظفر آباد میں پہلا باقاعدہ ہسپتال قائم کیا ہے اور زلزلہ کے بعد وہاں تقریباً ایک ہزار بڑے آپریشن کیے گئے ہیں جبکہ روزانہ 500 مریض دیکھے جانتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جہادیوں کے ساتھ اس جماعت کے روابط تھے۔ اگرچہ جماعت کا کہنا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے تاہم حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی اہلکار بھی اس کی کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی جماعتیں جہاں امدادی کارروائیوں کے ساتھ کشمیر جاپہنچی ہیں وہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ اپنا پیغام بھی لوگوں تک پہنچانے کی غرض رکھتے ہیں۔ جماعت الدعوٰۃ کے ایک رکن حاجی جاوید الحسن کا کہنا ہے ’کشمیر قدرتی، سیاسی، مذہبی حتٰی کہ اخلاقی طور پر بھی پاکستان کا حصہ ہے‘۔
پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جیش محمد کے ترجمان یوسف برکی کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کی حکمت عملی تبدیل ہوچکی ہے۔ ’مقبوضہ کشمیر میں وہ ہماری کارروائیوں میں مدد کرنے کے بجائے ہماری راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔‘ زلزلہ کے بعد بھارتی حکومت نے بھی کافی امداد متاثرین تک پہنچائی ہے جبکہ بھارتی عوام کی ہمدردی بھی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ اس حالات میں مسئلہ کے حل کے لیے بھی کئی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ کشمیر کو آزاد کرنے کے بجائے خود مختاری دے دی جائے، جیسا کہ ایک بھارتی صحافی کلدیپ نیر کا کہنا ہے۔ ’میرے خیال میں صدر مشرف بہت تبدیل ہوگئے ہیں۔ پہلے وہ کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے جہاد کی بات کرتے تھے لیکن اب کہتے ہیں کہ وہ جہاد کے خلاف ہیں اور مسئلہ کے حل کے لیے تجویز بھی دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں مسئلہ حل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے‘۔ جنوری میں پاک بھارت امن مذاکرات کا تیسرا دور متوقع ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ کیاواقعی حالات میں کوئی تبدیلی آسکے گی۔ صرف ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی تبدیلی آئے گی بھی تو وہ اسے پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے لیے بھی تسلی بخش ہونا چاہئے۔ | اسی بارے میں کشمیر بس مذاکرات شروع07 December, 2004 | آس پاس کشمیری رہنماؤں کی پہلی ملاقات12 December, 2004 | آس پاس ’اختلافات پہلے سے کم ہوئے ہیں‘28 December, 2004 | آس پاس کشمیر بس کی خصوصی کوریج07 April, 2005 | آس پاس کشمیر پر نئ تحقیق کا مطالبہ13 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||