کشمیر پر نئ تحقیق کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے شہر لوٹن میں حال ہی میں برٹش لائبریری ہریٹیج لاٹری فنڈ اور کشمیر بھون نے کشمیر کی تاریخ پر ایک روزہ سیمنار منعقد کیا جس کے دوران بیرونی دنیا سے کشمیر کو متعارف کرانے والے آثار قدیمہ کے ماہر اور مؤرخ سر آریل سٹاین پر ایک ویب سایٹ لانچ کی گئ۔ اس موقع پر کشمیر کی تاریخ پر کئی تحقیقی مقالے پڑھے گۓ اور حاضرین کو کشمیری موسیقی سنائی گئی جس کے لۓ کشمیری فنکاروں کو وادی سے بلایا گیا تھا۔ کشمیر کے حوالے سے جہاں آج کل بھارت، پاکستان کے مختلف علاقوں میں آئے دن کانفرنسیں یا سیمنار ہو رہے ہیں وہیں عالمی سطح پر بھی کئ ملکوں میں اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لۓ نہ صرف اب سیمنار منعقد ہو رہے ہیں بلکہ کشمیر کی سماجی سیاسی اور اقتصادی تاریخ پر نئی تحقیق کرانے کے مطالبے بھی بڑھ رہے ہیں۔ لوٹن کے مرکزی ہال میں برطانیہ کے آثار قدیمہ کے ماہر سر آریل سٹاین کے کشمیر پر کیے جانے والے کام پر مقالے پڑھے گۓ اور ان نوادرات کی نماش کی گئ جو سٹاین نے کشمیر کی تاریخ لکھنے کے دوران حاصل کیں اور بعد میں برٹش میوزیم میں جمع کرائیں۔ برٹش لائبریری سے وابستہ پینی بروک نے اس سیمنار کو منعقد کرانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: ’جنوبی ایشیا میں کشمیر کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اسی حوالے سے ہم نے کشمیر کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لۓ یہ سیمنار لوٹن میں کشمیر بھون کے ساتھ مل کر منعقد کرایا جس میں آثار قدیمہ کے مشہور ماہر سر آریل سٹاین پر مذاکرہ کے علاوہ کشمیری موسیقی شامل ہے۔‘ سیمنار کے دوران سٹاین پر ایک ویب سائٹ بھی لانچ کی گئی جس میں کشمیر سے متعلق نایاب نسخوں اور تصویروں کو رکھا گیا ہے تاکہ بیرونی دنیا کو کشمیر کے شاندار ماضی سے آگاہی حاصل ہوسکے۔ برٹش لائبریری سے وابستہ فرانسس ووڈ نے کہا کہ سٹاین نے کشمیر پر شاندار کام کیا ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے: ’سٹاین نے بنیادی طور پر کشمیر کو اپنا گھر بنایا تھا جہاں سے وہ وسط ایشیا کے مختلف ملکوں کا دورہ کرتے تھے۔ انہوں نے نوادرات کا ایک بڑا خزانہ جمع کیا جو آج بھی برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔ میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ سٹاین نے کشمیر کو باقی دنیا سے متعارف کرایا۔‘ فرانسس ووڈ کہتی ہیں کہ کشمیر وسطی ایشیا کا گیٹوے ہے اور اس لۓ اکثر مورخ یا سیاح کشمیر سے ہی وسطی ایشیا کا رخ کرتے تھے۔’میرے خیال میں کشمیر وسط ایشیا کا حصہ ہے اور اسکا گیٹوے بھی۔ وسطی ایشیا میں داخل ہوتے ہی آپ کو کئ تہذیبوں کا سنگم ملتا ہے جس میں کشمیر ہر طرف سے جھلکتا ہے۔ اس موضوع پر گزشتہ پچاس برسوں میں اتنی تحقیق نہیں ہوئی لیکن اب اس پر کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘ سمینار کے اختتام پر حاضرین کو کشمیری موسیقی سنائی گئی جس کے لۓ وادی کشمیر کے نامور گلوکار وحید جیلانی کو دعوت دی گئ تھی۔ انہوں نے سفید فام برادری کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے پر خوشی ظاہر کی مگر برطانیہ میں آباد کشمریوں میں اتحاد کے فقدان پر افسوس ظاہر کیا۔ سیمنار میں پاکستان کے زیرانتظام کشمریوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی تاہم بعض لوگوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ زلزلے کے متاثرین کا کسی نے ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ سمینار میں کشمیر ہی کشمیر چھایا ہوا تھا۔ البتہ یہاں کے مقامی لوگوں نے کشمیری موسیقی کا خوب لطف اٹھایا اور ایسی محفلیں منعقد کرانے کا مطالبہ کیا۔ | اسی بارے میں جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ13 December, 2005 | پاکستان کشمیر کو خود مختار بنائیں: نیئر12 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||