BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کو خود مختار بنائیں: نیئر

لائن آف کنٹرول کھلنے سے کشمیریوں کے اندر امید جاگ گئی ہے
بھارت کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار کلدیپ نیئر نے تجویز دی ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے اپنے زیرانتطام کشمیر کے دفاع، مواصلات اور خارجہ امور اپنے پاس رکھیں اور باقی معاملات میں کشمیر کی حکومتوں کو خود مختار بنادیں۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز ’کشمیر کے ممکنہ حل‘ کے عنوان سے منعقد کردہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس تقریب کا اہتمام اقبال احمد فاؤنڈیشن اور ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسو سی ایشن یعنی ’سیفما‘ نے مشترکہ طور پر کیا۔

انہوں نے کہا کہ منقسم کشمیر کے منتخب اراکین بھارت اور پاکستان کے پارلیمان میں بیٹھیں اور دونوں ممالک کے منتخب نمائندے کشمیر کے ایوانوں میں بیٹھیں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔

کلدیپ نیئر نے اس موقع پر سرحدی پابندیاں نرم کرنے اور لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے ساتھ وسیع پیمانے پر تجارت شروع کرنے کی بھی تجاویز پیش کی۔

نہرو کی تجاویز
 کشمیر کے گاندھی شیخ عبداللہ جب ایوب خان سے ملنے آئے تھے اس وقت وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نہرو کی تجاویز لائے تھے لیکن جسیے ہی شیخ عبداللہ پاکستان پہنچے تو نہرو وفات پاگئے اور بات نہیں ہوسکی۔
تجزیہ نگار کلدیپ نیئر

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک شکوک وشبہات اور بداعتمادی کی فضا ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں جس میں ان کے مطابق میڈیکل، انجنیئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کے تعلیمی اداروں میں ایک دوسرے ملک کے طلباء کے لیے کوٹہ مقرر کیا جائے۔

بھارتی صحافی نے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ سے اپنی اور کچھ دیگر ساتھیوں کی ملاقات کا حوالہ دیا اور بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ لداخ اور جموں بھارت لے لے اور کشمیر وادی کے مسلمان اکثریتی علاقے پاکستان کو دے دیں جس پر ان کے مطابق انہوں نے شہباز شریف سے کہا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے وہ مخالف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا آئین ’سیکولر‘ ہے لیکن وہاں گجرات میں مذہبی فسادات اور بابری مسجد کو گرانے جیسے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے باوجود بھی بھارت مذہبی بنیاد پر تقسیم کا مخالف ہے۔

کلدیپ نیئر نے کہا کہ کشمیر کے متعلق ’سٹیٹسکو‘ یعنی جو موجودہ صورتحال ہے یا کشمیر کو آزاد ملک بنانے کا پاکستان مخالف ہے۔ ان کے مطابق پورا کشمیر بھارت کو ملے یا پاکستان کو، ایسا بھی ممکن نہیں۔

انہوں نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کشمیر پاکستان کو دینا نہیں چاہتا اور پاکستان ان سے لے نہیں سکتا۔

سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے کلدیپ نیئر نے ایک موقع پر کہا کہ سن انیس سو پینتالیس تک قائداعظم محمد علی جناح کو زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے۔

انہوں نے برصغیر کی تقسیم کرنے والے برطانوی نمائندے ریڈ کلف سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ سرحدوں کے تعین کرتے وقت کشمیر ان کے ذہن میں نہیں تھا۔

سرحد پار اپنوں کو تکتے ہوئے

کلدیپ نیئر نے کہا کہ کشمیر کے گاندھی شیخ عبداللہ جب ایوب خان سے ملنے آئے تھے اس وقت وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نہرو کی تجاویز لائے تھے لیکن جسیے ہی شیخ عبداللہ پاکستان پہنچے تو نہرو وفات پاگئے اور بات نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق شیخ عبداللہ نے کبھی وہ بات ظاہر نہیں کی کہ وہ کیا تجویز لے کر پاکستان آئے تھے۔

انہوں نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سرحد پار شدت پسندی کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو کو قرار دیا اور کہا کہ دراندازی کا آغاز سن چونسٹھ میں ہوا۔ ان کے مطابق بھٹو نے خود بھی ان سے ملاقات میں یہ بات تسلیم کی تھی۔

بھارتی تجزیہ کار نے تسلیم کیا کہ کشمیریوں کو جمہوریت نہ دے کر بھارت نے بڑی غلطی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے دو مواقع گنوا دیے۔ ان کے مطابق پہلا موقع اس وقت تھا جب مہاراجہ کشمیر نے آزادی کا اعلان کیا تھا اور بھارت اور پاکستان سے کچھ مہلت مانگی تھی لیکن پاکستان نے تحمل مزاجی نہیں دکھائی۔ جبکہ دوسرا موقع اس وقت تھا جب امریکہ اور برطانیہ کیو کوششوں سے ذوالفقار علی بھٹو اور سورن سنگھ کے درمیان مذاکرات کے چھ دور ہوئے۔

توقع کی جارہی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کلدیپ نیئر کھل کر بات کریں گے اور کئی تجویز پیش کریں گے لیکن وہ خاصے محتاط نظر آئے۔

اسی بارے میں
وہاں بڑی بے بسی ہے
06 November, 2005 | انڈیا
پہلاگروپ ایل او سی کے پار
19 November, 2005 | انڈیا
ابھی صرف ایک جگہ سے
05 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد