ایل او سی کھلی، کوئی نہیں آیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں پونچھ کے چکاندا باغ علاقے میں پیر کو ایک بار پھر لائن آف کنڑول (ایل او سی) کھولی گئی لیکن پاکستان کی طرف سے کسی کواس پار آنے کی اجازت نہیں ملی- دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے کے بعد اس مقام کو لوگوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا تھا- سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کوتقریبا تین بجے ایل او سی کو چکاندا باغ علاقے کی جانب سے کچھ دیر کے لیے کھول دیا گیا- مقامی انتظامیہ کے ایک اعلی حکام کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے کسی بھی باشندے کو پیر کوایل او سی پار کرنے کی اجازت نہیں ملی- ایک اعلی افسر کا کہنا تھا کہ’پاکستان نے 71 لوگوں کی فہرست دی تھی لیکن ان میں سے کسی کو بھی بھارتی انٹیلیجنس بیورونے ’کلئیر‘ نہیں کیا- انہوں نے کہا کہ تقریبا پندرہ دنوں بعد اس مقام پرایک بار پھر ایل اوسی کھولی جائےگی اوراگر ان افراد کی تفتیش 'وریفکیشین' مکمل ہوگئی تو ’ان میں سے کچھ کو اس پار آنے کی اجازت ملے گی‘- اس مقام سے نومبرکی 21 تاریخ کو پونچھ علاقہ سے تعلق رکھنے والے سات افراد ایل او سی کے پار اپنے رشتہ داروں کی مدد اور خیریت معلوم کرنے کےلیے اس مقام پر موجودایک مقامی صحافی نے بتایا کہ پچھلے ماہ سرحد کھولنے کے موقع پر دونوں جانب کے فوجی اور سول انتظامیہ کے افسران خاصی تعداد میں موجود تھے لیکن پیر کواس مقام پر کوئی بھی موجود نہیں تھا- دونوں ممالک نے اتفاق رائے سے کنٹرول لائن کو پانچ مقامات پرکھول دیا ہے- کھولے گئے کراسنگ پوائنٹس میں نوسیری۔ ٹیتھوال، چکوٹھی۔اُڑی، راولا | اسی بارے میں ’بہتر زندگی کے لیے ایل او سی پار‘26 September, 2005 | انڈیا ایل او سی پر تین امدادی مراکز22 October, 2005 | انڈیا ایل او سی: امدادی مراکز کی تیاریاں 24 October, 2005 | انڈیا ایل او سی: پہلےتین مقامات کھلیں گے 03 November, 2005 | انڈیا ایل او سی کھلنے میں مزید تاخیر 09 November, 2005 | انڈیا ایل او سی کا ’فلاپ ڈرامہ‘12 November, 2005 | انڈیا ایل او سی پار کرنے کی تاریخوں پراتفاق17 November, 2005 | انڈیا پہلاگروپ ایل او سی کے پار19 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||