پہلاگروپ ایل او سی کے پار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ٹیتھوال سیکٹر سے چوبیس افراد لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پہنچے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کو پانچ مقامات پرامدا اور لوگوں کی آمد ورفت کے لیے کھولے جانے کے بعد سرحد عبور کرنے والا عام شہریوں کا یہ پہلا گروپ ہے۔ آٹھ اکتوبر کےزلزے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کم از کم 73000 جبکہ بھارت کے زیر اتظام کشمیر میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق سرحد عبور کرنے سے پہلے ایک اسّی سالہ خاتون بیگم جان نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہو رہا کہ وہ حج پر جا رہی ہیں۔ بیگم جان پاکستان میں نیلم اور بھارت میں کرشن گنگا کے نام سے جانے والے دریا پر پاکستانی انجینئروں کے بنائے ہوئے عارضی پل سے سرحد عبور کرنے والی پہلی فرد تھیں۔ ان کے ساتھ جن دیگر افراد نے لائین آف کنٹرول عبور کی ان میں زیادہ افراد ضعیف تھے اور ان میں سات دوسری خواتین بھی شامل تھیں۔ گروپ میں شامل حاجی عبدالرحمٰن نے کہا 1947 میں تقسیم ہند کے بعد پہلی مرتبہ سرحد کی دوسری جانب جا رہے ہیں۔ حاجی عبدالرحمٰن نے کہا ’ میں اپنے بھائی اور بھتیجوں کو دیکھنے جا رہا ہوں لیکن میں بہت پریشان ہوں کیونکہ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔‘ درمیانی عمر کی ایک اور خاتون رفیلہ بیگم کا، جن کے چھ قریبی عزیز زلزلے میں مارے گئے کہنا تھا ’ میں اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کا سوگ منانے جا رہی ہوں۔‘ پینتیس سالہ انورصادق نے کہا اس خوفناک زلزلہ نے کشمیریوں کے راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرا دیا ہے۔ ’ اس سے پہلے میں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب کسی گاؤں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘ | اسی بارے میں امداد کا تبادلہ، لوگ اب بھی منتظر12 November, 2005 | پاکستان ’آر پار جانے کےاحکامات نہیں‘12 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان ایل او سی کھولنے کی تجویز: ایک جائزہ20 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||