ایل او سی پار کرنے کی تاریخوں پراتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان نے کنٹرول لائن کے راستے کشمیریوں کے آنے جانے کی تاریخوں پر اتفاق کر لیا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے بتایا ہے کہ اوڑی۔چکوٹی پوائنٹ پر کشمیریوں کا آنا جانا شروع ہو گیا ہے- اس سیکٹر سے یکم دسمبر کو بھی لوگ جا سکیں گے- بیان کے مطابق ٹیتھوال۔نوشیری سیکٹر سے 19 اور 26 نومبر اور3 اور 10 دسمبر اور پنچھ۔راولاکوٹ کے راستے 21 نومبر اور5 دسمبر کو کشمیری آ جا سکیں گے- اسی طرح میندھار۔تتاپانی 28 نومبراور 12 دسیبر اور اڑی ۔حاجی پور سیکٹر 24 نومبر اور اور 8دسمبر کو کھلے گا- دونوں ملکوں کی حکومتوں نے آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے کشمیری باشندوں کو اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے ان راستوں کو کھولنے پر اتفاق کیا تھا- کنٹرول لائن کے راستے وہی کشمیری آ جا سکیں گے جنہیں سرکاری طور پر منظوری مل چکی ہے۔ اس کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے جو مظفر آباد کی بس کے لیے عمل میں ہے۔
سرنا نے یہ بھی بتایا ہے کہ 19 نومبرکو اسلام آباد میں عالمی ’ڈونرز کانفرنس‘ میں ہندوستان کی طرف سے خارجی امور کے وزیر مملکت ای احمد شرکت کریں گے۔ اس سے قبل آج دن میں ہندوستان نےزلزلہ زدگان کی مدد کے لیے مزید چھ سو ٹن سامان پاکستان روانہ کیا ہے- یہ سامان ستائیس ویگنوں پر مشتمل خصوصی ریل گاڑی کے ذریعے اٹاری واہگہ بارڑر کے راستے بھیجاگیا ہے۔ جو سامان بھیجے گئے ہیں ان میں برفانی علاقوں میں کام آنے والے ٹینٹ، سلیپنگ بیگ، کمبل، ایکسرے مشین ، درد شکن انجکشن اور دوائیں وغیرہ شامل ہیں- |
اسی بارے میں کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان اور غم کی شام گہری ہوتی گئی08 November, 2005 | پاکستان کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ07 November, 2005 | پاکستان ایل او سی:سخت حفاظتی انتظامات06 November, 2005 | پاکستان امدادی ٹرک تیار، کنٹرول لائن کھلےگی06 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||