BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 November, 2005, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل او سی پار کرنے کی تاریخوں پراتفاق

لائن آف کنٹرول
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پھنسے ہوئے کشمیری پہلی مرتبہ لائن آف کنٹرول پیدل پار کر رہے ہیں
ہندوستان اور پاکستان نے کنٹرول لائن کے راستے کشمیریوں کے آنے جانے کی تاریخوں پر اتفاق کر لیا ہے۔

ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے بتایا ہے کہ اوڑی۔چکوٹی پوائنٹ پر کشمیریوں کا آنا جانا شروع ہو گیا ہے- اس سیکٹر سے یکم دسمبر کو بھی لوگ جا سکیں گے-

بیان کے مطابق ٹیتھوال۔نوشیری سیکٹر سے 19 اور 26 نومبر اور3 اور 10 دسمبر اور پنچھ۔راولاکوٹ کے راستے 21 نومبر اور5 دسمبر کو کشمیری آ جا سکیں گے-

اسی طرح میندھار۔تتاپانی 28 نومبراور 12 دسیبر اور اڑی ۔حاجی پور سیکٹر 24 نومبر اور اور 8دسمبر کو کھلے گا-

دونوں ملکوں کی حکومتوں نے آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے کشمیری باشندوں کو اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے ان راستوں کو کھولنے پر اتفاق کیا تھا-

کنٹرول لائن کے راستے وہی کشمیری آ جا سکیں گے جنہیں سرکاری طور پر منظوری مل چکی ہے۔ اس کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے جو مظفر آباد کی بس کے لیے عمل میں ہے۔

ایل او سی پر مزدور امدادی سامان لے کر جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ حساس علاقے کی وجہ سے خطرے کا بورڈ بھی لگا ہوا ہے

سرنا نے یہ بھی بتایا ہے کہ 19 نومبرکو اسلام آباد میں عالمی ’ڈونرز کانفرنس‘ میں ہندوستان کی طرف سے خارجی امور کے وزیر مملکت ای احمد شرکت کریں گے۔

اس سے قبل آج دن میں ہندوستان نےزلزلہ زدگان کی مدد کے لیے مزید چھ سو ٹن سامان پاکستان روانہ کیا ہے- یہ سامان ستائیس ویگنوں پر مشتمل خصوصی ریل گاڑی کے ذریعے اٹاری واہگہ بارڑر کے راستے بھیجاگیا ہے۔ جو سامان بھیجے گئے ہیں ان میں برفانی علاقوں میں کام آنے والے ٹینٹ، سلیپنگ بیگ، کمبل، ایکسرے مشین ، درد شکن انجکشن اور دوائیں وغیرہ شامل ہیں-

66پاک انڈیا مذاکرات
تلخ ماحول میں مثبت نتائج کے امکانات کم ہیں
یہ الگ الگ بات نہیں
فضائی امداد قبول نہیں، سرحد کھولنے کی تجویز
66زلزلہ، سیاست، سفارت
شاید بھارت بھی پاکستانی امداد قبول نہ کرتا
66ایل او سی کی رکاوٹ
زلزلہ: پاک بھارت فوجی شراکت ممکن نہیں
اسی بارے میں
اور غم کی شام گہری ہوتی گئی
08 November, 2005 | پاکستان
کنٹرول لائن، لوگوں کا غصہ
07 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد