BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 December, 2005, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور:زلزلہ زدگان کی اجتماعی شادی

دولہے
شادی کے اخراجات مخیر حضرات نے برداشت کیے
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ہفتے کو زلزلہ متاثرین کے ایک مرکز میں چار جوڑوں کی اجتماعی شادی کا انعقاد کیا گیا۔

پشاور میں یہ اس قسم کی پہلی شادی تھی جس کے تمام اخراجات مقامی مخیر حضرات نے برداشت کیے۔

حیات آباد میں حکومت کی جانب سے زلزلہ زدگان کے لیے قائم ایک بحالی مرکز میں چار اجتماعی شادیوں کے موقع پر مہندی، بارات اور رخصتی کی تمام رسمیں انتہائی سادگی سے منعقد ہوئیں۔

یہ اجتماعی شادی آٹھ اکتوبر کے زلزلہ متاثرین کا غم خوشی میں تبدیل کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اگرچہ یہ شادیاں عید کے بعد ہونا تھیں لیکن مخیر حضرات اور مرکز انتظامیہ کے اصرار پر انہیں وقت سے پہلے ہی منعقد کر لیا گیا۔

شادی کرنے والوں میں تین عبدالقدیر، محمد منیر اور بلال کا تعلق بالاکوٹ سے ہے جبکہ ایک دولہا محمد گل کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا۔

اس موقع پر دو دلہنوں کی بھابی خدیجہ ریاض کا کہنا تھا کہ دل تو اندر سے بہت دکھی ہے لیکن ان کی خوشی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ سب نے تعاون کیا اور یہ موقع آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ان کے والد بھی زلزلے میں بچھڑ گئے ان کی کمی محسوس ہو رہی ہے‘۔

گانے بجانے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں گانا کہاں ہوا ہے۔ تاہم منتظمین نے ان کا دل بہلانے کے لیے سب کچھ کیا ہے، سب رسمیں پوری کی ہیں‘۔

شادی کی تقریب میں دو دلہنیں

ان شادیوں کے اخراجات پشاور کی جن مخیر شخصیات نے برداشت کیے ان میں مسز آصف بھی شامل ہیں۔ جب ان سے انتظامات کی تفصیل جاننا چاہی اور پوچھا گیا کہ مدد تو کسی اور طریقے سے بھی تو ہوسکتی تھی آخر شادی ہی کیوں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ وہ پہلے دن سے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب یہ ہسپتال میں آئے تھے تب سے وہ روزانہ ان کے پاس آتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ اس قسم کی امداد تو سب کو کرنی چاہیے‘۔ البتہ شادی اور جہیز پر اخراجات بتانے سے انہوں نے گریز کیا۔ ’نہیں بس اللہ قبول کرے ابھی ہم نے حساب نہیں کیا ویسے یہ حساب کی بات ہی نہیں ہے‘۔

شادی کے انتظامات کرنے والوں میں مسز عدیلہ یوسف بھی شامل تھیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ کتنا مشکل تھا تو وہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ یہ تو امی کو ہی معلوم ہوگا لیکن مشکل نہیں دلچسپ تھا یہ شادی کرانا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ایک اپنا شوق ہوتا ہے مطلب جو دل سے کام لیتے ہیں اس میں آپ کو تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی‘۔

ان سے پوچھا کہ آپ تو ایسے کام کر رہی ہیں جیسے کسی قریبی رشتہ دار کی شادی ہو تو انہوں نے کہا کہ جب ان کے والد نے انہیں اپنی بیٹی کہا ہے تو پھر تو یہ ہماری بہنیں ہی ہوئیں۔

زندگی اور موت کی ایک آنکھ مچولی آخری وقت تک جاری رہی۔ شادی سے ایک روز پہلے ایک دولہا کا چھ ماہ کا بھائی فوت ہوا لیکن شادی موخر نہیں کی گئی۔ اس کی تفصیل ایک رضاکار نوشابہ نور نے بتاتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ کا بچے کا سینہ بھی خراب تھا اور پیٹ بھی تاہم ایک رات پہلے وہ اچھا تھا لیکن دوسری صبح نہیں اٹھا۔

اس وجہ سے ایک دلہن شبنم کافی دکھی تھیں اور شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، رو رو کر اس نے اپنا برا حال کر لیا تھا لیکن منتظمین کے اصرار پر شادی وقت پر ہی ہوئی۔

چار میں سے دو دولہے بھائی بھی ہیں۔ ان میں سے ایک بالاکوٹ کے محمد منیر کا کہنا تھا کہ’ اچھا ہے اللہ تعالی کے فضل وکرم سے لیکن وہ خوشی نہیں ہے جو پہلے محسوس ہونی تھی۔ لیکن منتظمین کا اصرار تھا لہذا کر رہے ہیں‘۔

چاہے حالات کتنے ہی خراب ہوں، زندگی کا سفر نہیں رکتا۔ کبھی غم کبھی خوشی اس سفر کے نشیب و فراز ہیں سو وہ زلزلہ متاثرین بھی طے کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
مصیبت کے موسم میں خوشی کا دن
19 November, 2005 | پاکستان
وعدہ جو وفا ہوا
02 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد