سینکڑوں زلزلہ زدہ بچے بیمار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آْباد میں قائم زلزلہ زدگاں کے مرکزی کیمپ میں سردی کی وجہ سے سینکڑوں بچے نمونیا اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ایچ الیون سیکٹر میں اڑتیس ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہوئی اس خیمہ بستی میں گیارہ ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں جس میں تین ہزار سے زیادہ بچے ہیں۔ اس کیمپ میں حمزہ فاؤنڈیشن کے قائم کردہ فیلڈ ہسپتال کی ڈاکٹر افشاں نے بی بی سی کو بتایا کہ نوے فیصد کے قریب بچے سخت سردی کی وجہ سے نمونیا اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق اس کیمپ میں سردی سے بچنے کے لیے معقول انتظامات نہیں ہیں۔ کیمپ میں جہاں بیشتر لوگوں کو کیمپ کے منتظم ’کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی، یعنی ’سی ڈی اے، کے عملے سے بدتمیزی کرنے کی شکایات ہیں وہاں سردی سے بچنے کے لیے گرم بستروں اور فوم کے گدوں کی بڑے پیمانے پر مانگ ہے۔ ’سی ڈی اے، کے دفتر کے میں بیٹھیں ایک خاتون فائزہ سکندر نے روتے ہوئے بتایا کہ کیمپ کے انتظامی اہلکار ان سے بدتمیزی کرتے ہیں اور وہ صبح سے ایک ٹوتھ برش لینے کے لیے پریشان بیٹھیں ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے ہاتھ میں موبائیل فون بھی ہے کیا پندرہ بیس روپے کا برش آپ نہیں خرید کرسکتیں؟ تو اس پر انہوں نے کہا کہ موبائیل فون ہوا تو کیا ہوا ہم کھاتے پیتے لوگ تھے اور اب زلزلہ کی وجہ سے ہرچیز ختم ہوگئی اور ٹوتھ برش خریدنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ اس دوران ایک اور خاتون روتی ہوئی وہاں آئیں اور ان کا شکوہ تھا کہ انہیں کمبل یا رضائی وغیرہ نہیں ملیں اور ان کے بچے سری سے ٹھٹھر رہے ہیں۔ ان کے مطابق رات کو خیمے اوس کی وجہ سے گیلے ہوجاتے ہیں اور سخت سردی پڑتی ہے۔ زلزلہ سے متاثرہ اونچی پہاڑوں پر رہنے والے یا سخت سردی پڑنے والے علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں ے مکینوں کے مسائل تو ہیں ہی لیکن اسلام آْباد میں قائم اس مرکزی بستی کے مکین بھی محفوظ نہیں۔ حکومت اور امدادی اداروں کے کارکنوں کے لیے اب بھی سخت سردی سے لوگوں کو بچانا ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ: 9000 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں23 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: ورلڈ بینک سے قرض کا معاہدہ22 December, 2005 | پاکستان زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟21 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: انتخابی شیڈول کا اعلان21 December, 2005 | پاکستان پشاور:زلزلہ زدگان کی اجتماعی شادی17 December, 2005 | پاکستان کھیل کے میدان بھی زلزلہ کی نذر16 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: لوگ بیکار کیوں بیٹھے ہیں؟14 December, 2005 | پاکستان جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ13 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||