BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 December, 2005, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینکڑوں زلزلہ زدہ بچے بیمار

بچے
سردی کی وجہ سے سینکڑوں بچے نمونیا اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آْباد میں قائم زلزلہ زدگاں کے مرکزی کیمپ میں سردی کی وجہ سے سینکڑوں بچے نمونیا اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ایچ الیون سیکٹر میں اڑتیس ایکڑ کے رقبے پر پھیلی ہوئی اس خیمہ بستی میں گیارہ ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں جس میں تین ہزار سے زیادہ بچے ہیں۔

اس کیمپ میں حمزہ فاؤنڈیشن کے قائم کردہ فیلڈ ہسپتال کی ڈاکٹر افشاں نے بی بی سی کو بتایا کہ نوے فیصد کے قریب بچے سخت سردی کی وجہ سے نمونیا اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق اس کیمپ میں سردی سے بچنے کے لیے معقول انتظامات نہیں ہیں۔

کیمپ میں جہاں بیشتر لوگوں کو کیمپ کے منتظم ’کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی، یعنی ’سی ڈی اے، کے عملے سے بدتمیزی کرنے کی شکایات ہیں وہاں سردی سے بچنے کے لیے گرم بستروں اور فوم کے گدوں کی بڑے پیمانے پر مانگ ہے۔

’سی ڈی اے، کے دفتر کے میں بیٹھیں ایک خاتون فائزہ سکندر نے روتے ہوئے بتایا کہ کیمپ کے انتظامی اہلکار ان سے بدتمیزی کرتے ہیں اور وہ صبح سے ایک ٹوتھ برش لینے کے لیے پریشان بیٹھیں ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے ہاتھ میں موبائیل فون بھی ہے کیا پندرہ بیس روپے کا برش آپ نہیں خرید کرسکتیں؟

تو اس پر انہوں نے کہا کہ موبائیل فون ہوا تو کیا ہوا ہم کھاتے پیتے لوگ تھے اور اب زلزلہ کی وجہ سے ہرچیز ختم ہوگئی اور ٹوتھ برش خریدنے کے قابل بھی نہیں رہے۔

اس دوران ایک اور خاتون روتی ہوئی وہاں آئیں اور ان کا شکوہ تھا کہ انہیں کمبل یا رضائی وغیرہ نہیں ملیں اور ان کے بچے سری سے ٹھٹھر رہے ہیں۔ ان کے مطابق رات کو خیمے اوس کی وجہ سے گیلے ہوجاتے ہیں اور سخت سردی پڑتی ہے۔
زلزلے کی وجہ سے ٹانگ ٹوٹنے پر بے ساکھیوں سے چلنے والی آٹھویں جماعت کی طالبہ نازیہ اقبال کی بھی شکایت دیگر سے مختلف نہیں تھی اور انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ اہل خانہ کے افراد ہیں لیکن چھوٹے سے تمبوں میں چار رصائیوں میں سوتے ہیں۔

زلزلہ سے متاثرہ اونچی پہاڑوں پر رہنے والے یا سخت سردی پڑنے والے علاقوں میں قائم خیمہ بستیوں ے مکینوں کے مسائل تو ہیں ہی لیکن اسلام آْباد میں قائم اس مرکزی بستی کے مکین بھی محفوظ نہیں۔

حکومت اور امدادی اداروں کے کارکنوں کے لیے اب بھی سخت سردی سے لوگوں کو بچانا ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد