BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 December, 2005, 18:47 GMT 23:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: انتخابی شیڈول کا اعلان

آزاد کشمیر اسمبلی
ایک نشست پر انتخاب یکم جنوری کو ہو گا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں الیکشن کمیشن نے زلزے سے ہلاک ہونے والی خاتون رکن اسمبلی کی خالی نشست پر انتخاب کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیر سماجی بہبود اور رکن قانون ساز اسمبلی شیریں وحید آٹھ اکتوبر کے زلزے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ زلزے میں شیریں وحید اوران کے شوہر سمیت خاندان کے گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شیریں وحید کے شوہر خان عبدالوحید خان بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔

کشمیر کے اس علاقے کےالیکشن کمیشن کے مطابق خواتین کے لیے مختص اس نشست پر انتخاب یکم جنوری کو ہوگا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کے لیے پانچ نشستیں مختص ہیں۔ ان کا انتخاب تناسب کی بنیاد پر قانون ساز اسمبلی کے اراکین کرتے ہیں۔

آٹھ اکتوبر کے زلزے میں کشمیر کے اس علاقے میں اسمبلی کے دو اراکین ہلاک ہوئے تھے جن میں شیرین وحید کے شوہر خان عبدالوحید بھی تھے۔ خان عبدالوحید کی ہلاکت کی وجہ سے خالی ہونے والی نشست پر ابھی انتخاب کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

وہ کشمیری پناہ گزینوں کی نشست پر منتخب ہوئے تھے۔ کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے مختلف صوبوں میں سن انیس سو سنتالیس سے آباد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پناہ گزینوں کے لیے بارہ نشستیں مختص ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر ریاض اختر چوہدری کا کہنا ہے کہ خان عبدالوحید کی ہلاکت کے باعث ہونے والی خالی نشست پر انتخاب کرانے کے لیے سرحد حکومت سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن ان کے کہنے کے مطابق سرحد کی حکومت نے زلزلے کے باعث انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت انتظامی اور دیگر سہولیات فراہم کرے تو جنوری میں ہی اس خالی نشست پر بھی انتخاب کرائے جاسکتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان انتخابات کے انعقاد کے بعد کشمیر کونسل یا کشمیر کے اس علاقے کی ایوان بالا کی چارخالی نشستوں پر بھی انتخابات کروائے جائیں گے۔ کشمیر کونسل کے چار اراکین کی پانچ سالہ معیاد مکمل ہونے کے بعد یہ نشستیں خالی ہوئی تھیں ۔

ان نشستوں پر انتخابات ستائیس اکتوبر کو ہونا تھے لیکن حکمران جماعت مسلم کانفرنس اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کی جانب سے چیف الکشن کمیشن کو ایک تحریری درخواست دی گئی تھی کہ زلزے کے باعث کشمیر کونسل کی نشستوں پر انتخابات ملتوی کیے جائیں جس کے بعد چیف الیکشن کمیشن نے یہ انتخابات ملتوی کر دیے۔

اگرچہ حکران جماعت مسلم کانفرنس انتخابات ملتوی کروانے کے حق میں تھی لیکن کشمیر کے اس علاقے کی حکومت نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی اور اس پر جہاں حکومت اور چیف الیکشن کمیشن کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تھے وہی حکمران جماعت کے اندر اختلاف رائے بھی کھل کر سامنے آیا۔

کشمیر کونسل کے اراکین کا انتخاب بھی تناسب کی بنیاد پر قانون ساز اسمبلی کے اراکین ہی کرتے ہیں۔ کشمیر کونسل کے منتخب اراکین کی تعداد چھ ہے جبکہ پانچ اراکین پاکستان کی پارلیمنٹ کے ممبر یا پاکستان کے وزیر ہوتے ہیں جن کو چئرمین کشمیر کونسل نامزد کرتے ہیں ۔ عہدے کے لحاظ سے پاکستان کے وزیراعظم کشمیر کونسل کے چئرمین ہوتے ہیں ۔

متاثریندورے مفید یا مضر
اہم شخصیات کے دورے سےعام آدمی کو کیا فائدہ
کام کیوں نہیں کرتے؟
خیمہ بستیوں کے مقیم بیکار کیوں بیٹھے ہیں
زلزلہ اور سیاحت
جنگلات اور آثارقدیمہ پر حکومتی توجہ
’دو ماہ بعد برآمد‘
’دو ماہ بعد زلزلے کے ملبے سے زندہ برآمد‘
اسی بارے میں
شاہ زمان کا سفر
20 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد