BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحالی کمیٹی میں شمولیت سے انکار

اپوزیشن
حکومت پارلیمان کو اختیار نہیں دینا چاہتی: اپوزیشن
حزب اختلاف نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد، بحالی اور تعمیر نو کے کاموں کی نگرانی کے لیے حکومت کی جانب سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے اس میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔

یہ فیصلہ منگل کے روز حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے اجلاس میں کیا گیا۔ جس کا اعلان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن، مخدوم امین فہیم اور دیگر رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

چودھری نثار علی خان اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افراد اور علاقوں کی بحالی کے لیے بنائے گئے دونوں اداروں کے سربراہان حاضر سروس فوجی ہیں اور وہ پارلیمان کو جوابدہ نہیں۔ ایسی صورتحال میں وہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل نہیں ہوسکتے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت پارلیمان کو اختیار نہیں دینا چاہتی اور نہ ہی شہری بالادستی تسلیم کرتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ زلزلہ ایک قدرتی آفت تھی جس سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے حزب اختلاف نے سنجیدگی کے ساتھ حکومت کو تعاون کی پیشکش کی۔

ان کے مطابق حزب اختلاف کی جانب سے ظاہر کردہ اظہار یکجہتی کا حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ جواب نہیں دیا اس لیے وہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل نہیں ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے ایسی نازک صورتحال میں تین صوبوں کی جانب سے مسترد کیے جانے والے متنازعہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ چھیڑ دیا ہے۔ جو ان کی نظر میں ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے بجائے ہیلی کاپٹر بلوچستان میں عوام کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے اور تعمیر نو کے لیے ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد درست طریقے سے استعمال کرنے کے لیے حزب اختلاف نے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کی بعض امدادی اداروں نے بھی حمایت کی تھی۔

اسی بارے میں
ریلیف فنڈ کے آڈٹ کا مطالبہ
18 November, 2005 | پاکستان
فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی
31 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد