پارلیمانی کمیٹی، اپوزیشن کی شرائط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور تعمیرِ نو کے کاموں کی نگرانی کے لیے وزیرِاعظم کی طرف سے قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کے لیے شرائط پیش کر دی ہیں۔ جمعرات کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں مجوزہ پارلیمانی کمیٹی کے دائرہ اختیار اور قواعد کے بارے میں حزب اختلاف نے اپنے’ٹرمز آف ریفرینس‘ پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان قواعد و ضوابط کو آئندہ دو دنوں میں حتمی شکل دے کر حکومت کو بھیج دیا جائےگا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں اس پارلیمانی کمیٹی میں حکومت کی طرف سے نامزد کیے جانے والے نو میں چھ ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حزبِ اختلاف کے ارکان نے کہا کہ وہ پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت کی طرف سے ان کے پیش کردہ ٹرمز آف ریفرنس کے منظور یا مسترد کیے جانے کے بعد کریں گے۔ پارلیمان کے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حزب اختلاف کی طرف سے بنائے گئے ٹرمز آف ریفرنس میں پارلیمان کی بالادستی پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے حزب اختلاف کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کے لیے تجویز کیے گئے قواعد و ضوابط کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ان قواعد و ضوابط پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک اس کمیٹی کے اختیارات کے بارے میں کوئی واضح بیان نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس کمیٹی کے کام کو پارلیمان کے ذریعے شفاف بنایا جائے۔ اس کے علاوہ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے حکومت کی طرف سے ایک جنرل کی زیرِ قیادت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور تعمیر نو کے کاموں کے لیے بنائی گئی اتھارٹی کے اختیارات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کو بھی پارلیمان ہی کے ماتحت ہونا چاہیے۔ گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنما مولانا سمیع الحق کی شرکت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میاں رضا ربانی نے کہا کہ حزب اختلاف کے تمام رہنما ابھی اپنے آپ کو اس کمیٹی کا رکن تصور نہیں کرتے لہٰذا وہ کسی دوسرے رکن کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جمعرات کو ہونے والے حزب اختلاف کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کےچیئرمین مخدوم امین فہیم، سینٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثار علی نے شرکت کی۔ تحریک انصاف کے صدر عمران خان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے عبدالرؤف مینگل اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مولانا فضل الرحمان کو بھی حکومت کی طرف سےتجویز کردہ پارلیمانی کمیٹی میں رکن نامزدہ کیا گیا ہے تاہم وہ جمعرات کو ہونے والے حزب اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ | اسی بارے میں پارلیمانی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس24 November, 2005 | پاکستان نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں24 November, 2005 | پاکستان بحالی کی نگران کمیٹی کا اجلاس 23 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||