BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاہ زمان کا سفر

شاہ زمان
شاہ زمان وادی نیلم میں واقع قصبے شاردا کے نزدیک ایک گاؤں کا رہائشی ہے
شاہ زمان اپنی عمر تیرہ سال بتاتا ہے لیکن دیکھنے میں وہ اس سے کہیں کم عمر اور سننے میں عمر رسیدہ لگتا ہے۔

میں رات دس بجے کے بعد ایک ریستوراں میں کھانا کھا رہا تھا جب شاہ زمان نے باہر سڑک کے کنارے کھڑے ریستوراں کے مالک سے اپنے بچھڑے ہوئے بھائی کا پتا دریافت کیا۔ مالک اچھا آدمی تھا، اس نے ایک دو سوال کرنے کے بعد اندازہ لگایا کہ بچہ بھوکا ہے تو اسے میری میز پر بٹھا کر کہا کہ پہلے کھانا کھاؤ پھر تمہارے بھائی کو بھی ڈھونڈ لیں گے۔

اس نے شلوار قمیض کے اوپر ایک موٹی جیکٹ پہن رکھی تھی جس پر میل کی اتنی تہیں جمی تھیں کہ اس کا اصل رنگ بتانا مشکل تھا۔ گلے میں مفلر اور پیروں میں ربر کے بوٹ۔ وہ سر جھکائے انہماک سے کھانا کھا رہا تھا۔

میرے دیکھتے دیکھتے اس نے سامنے رکھی چاروں روٹیاں کھا لیں اور پھر مالک کے اصرار پر اس نے چائے کا وہ کپ بھی لے لیا جو ایک گاہک نے چینی زیادہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیا تھا۔ بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ اسے چائے پسند نہیں۔

شاہ زمان وادی نیلم میں واقع قصبے شاردا کے نزدیک ایک گاؤں سے صبح آٹھ بجے چلا تھا۔ اسے جِیپ میں سفر کرنا تھا اس لیے یہ سوچ کر کہ کہیں قے نہ ہو جائے اس نے ناشتہ کیا نہ ہی کھانے کے لیے ساتھ کچھ رکھا۔ اس کے پاس پیسے بھی نہیں، اور جِیپ کا کرایہ اسے یوں نہیں دینا پڑا کہ گاؤں کے ایک پولیس والے نے اسے جِیپ میں بٹھاتے ہوئے ڈرائیور کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس بچے کو تنگ کیا تو تمہیں تھانے میں بند کر کے پیٹوں گا۔ بارہ گھنٹے کے بعد وہ مظفر آباد پہنچا اور پھر دو ڈھائی گھنٹے تک ادھر ادھر بھٹکتا رہا۔

اس کا بڑا بھائی نصیر زلزلے کے بعد کام کی تلاش میں مظفر آباد آیا تھا اور اس کے ٹھکانے کے بارے میں ماں نے شاہ زمان کو صرف اتنا بتایا کہ وہ ساتھ والے گاؤں کے ریٹائرڈ فوجی غلام حسن کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اور غلام حسن کا پتا سخی سہیلی سرکار سے معلوم ہوگا۔ سہیلی سرکار کے مزار کی مظفر آباد میں وہی اہمیت ہے جو لاہور میں داتا دربار کی۔

رات بہت ہو چکی تھی اس لیے میں شاہ زمان کو اپنے ساتھ اس کمرے میں لے آیا جس میں میں ٹھہرا ہوں۔ میں نے اس کے لیے ٹی وی لگا دیا اور خود بیٹھ کر کام کرنے لگا۔ وہ رات ایک بجے تک محویت سے چوتھے ون ڈے کی جھلکیاں دیکھتا رہا۔ اس کا پسندیدہ کھلاڑی شعیب اختر ہے۔

گاؤں میں وہ کبھی کبھار کرکٹ کھیلتا ہے لیکن اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہمیشہ لڑائی ہو جاتی ہے اس لیے وہ ان ’مجاہدوں‘ کے ساتھ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے جو کیل سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش میں شاردا سے گذر کر جاتے ہیں اور کچھ روز آس پاس کے دیہات میں گذارتے ہیں۔

شاہ زمان کبھی سکول نہیں گیا۔ اس کا ایک بڑا بھائی کیل میں ایک رشتہ دار کے پاس رہتا ہے اور دسویں میں پڑھتا ہے۔ دوسرا بھائی نصیر بھی میٹرک تک پڑھا ہے اور اب کام کی تلاش میں مظفر آباد آ گیا ہے۔ اسی کی خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے ماں نے اسے یہاں بھیجا ہے۔

دو بھائی اور ایک بہن اس سے چھوٹے ہیں اور سیپارہ پڑھتے ہیں۔ ماں باپ بیماری کا شکار ہیں اور کوئی کام کاج نہیں کر سکتے۔ شاہ زمان ان کی دیکھ بھال کرتا ہے، سب کے لیے کھانا پکاتا ہے اور جب ضرورت پڑے اشیائے ضرورت کے عوض مزدوری بھی کرتا ہے۔

اس نے گاؤں کے مولوی سے عربی قاعدہ پڑھا ہے جسے استعمال کر کے وہ اردو بھی پڑھ لیتا ہے۔ ’عربی سیکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ کو اردو بھی آ جاتی ہے لیکن صرف اچھی والی اردو۔ گالیوں والی نہیں۔ عربی تو اللہ کی زبان ہے اس لیے اس میں تو گندی باتیں ہوتی ہی نہیں۔‘

جب اس کی چپ ٹوٹی تو پھر وہ بولتا ہی چلا گیا۔ گھریلو لڑائی جھگڑے، لوہاروں کے خاندان کی زیادتیاں، زلزلے کے لیے آنے والے امدادی سامان کی خرد برد، کس کی لڑکی کس کے ساتھ بھاگی، جڑی بوٹیوں کے خواص، زلزلے سے گاؤں میں ہونے والے مالی نقصان اور واحد ہلاکت کا تذکرہ - - - اسی دوران مجھے نیند آ گئی۔ صبح آٹھ بجے میری آنکھ کھلی تو ابھی میری نیند پوری نہیں ہوئی تھی لیکن شاہ زمان جاگ رہا تھا اور سامنے بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔

’میں ہن چلناں واں‘ اس نے اٹھتے ہوئے مجھ سے اجازت چاہی۔ میں بستر سے نکلا اور اس کے ساتھ باہر آ گیا۔ میں نے چائے ناشتے کا پوچھا، اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ اسے بھائی کے پاس پہنچنے کی جلدی تھی۔

سخی سہیلی سرکار جا کر دفتر سے غلام حسن کا پوچھا تو کوئی اسے نہیں جانتا تھا لیکن اوقاف کا ایک اہلکار علاؤالدین ساتھ ہو لیا۔ ہم نے دریائے نیلم پر بنے لوہے کی تاروں پر لٹکے پل کو پار کیا تو دوسری جانب مٹی کی دیواروں اور ٹین کی چھتوں والے کچھ مکان تھے۔ کچھ دیر تلاش کے بعد ہمیں صحیح گھر مل گیا۔

ٹین کے بنے دروازے کو کھٹکھٹایا تو ایک عورت باہر آئی اور بچے کو پہچان کر اپنے ساتھ چمٹا لیا۔

دونوں ہم سے کوئی بات کیے بغیر اندر چلے گئے۔

علاؤالدین نے ہاتھ اٹھا کر کہا اللہ کا شکر ہے کہ بچہ اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ اور میرے ذہن میں وہ سارے بچے، جوان اور بوڑھے گھوم رہے تھے جو مجھے زلزلہ زدہ علاقوں میں ملتے رہے اور جنہوں نے اپنی ضروریات، اپنی بے بسی اور غربت کو بسا اوقات مبالغے کی حد تک بڑھا کر پیش کیا۔ شاید اس لیے کہ انہیں کچھ مل جائے، یا شاید صرف ہمدردی حاصل کرنے کے لیے۔

یہ بچہ ان سے کتنا مختلف ہے۔

اسی بارے میں
’ہر جگہ امداد نہیں پہنچی‘
12 December, 2005 | پاکستان
رہائش کیسی ہو
11 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد