BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 December, 2005, 10:16 GMT 15:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہم شخصیات کے دورے، مفید یا مضر

متاثرین
متاثرین اپنے چھوٹے موٹے مسائل لیے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں
پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے جہاں امدادی کارکن بڑی تعداد میں رخ کرتے ہیں وہیں اہم شخصیات یعنی وی وی آئی پیز بھی دورے شروع کر دیتے ہیں۔

ان دوروں کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ اس سے امدادی کارروائیاں اور روزمرہ کا معمول متاثر ہوتا ہے تو دوسری جانب کئی لوگ انہیں مسائل کے حل کے لیے مفید بھی سمجھتے ہیں۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی بعد صدر اور وزیراعظم، وزیراعلیٰ سے لے کر وفاقی و صوبائی وزراء اور اہلکاروں نے اب تک متاثرہ علاقوں کے کئی دورے کیے ہیں۔

ان دوروں سے ایک پرانی بحث دوبارہ چھڑ گئی کہ آیا ان کا کوئی فائدہ بھی ہے یا ان کا مقصد صرف ذرائع ابلاغ میں دیکھاوا ہے۔

کسی بھی اہم شخصیت کے متاثرہ علاقے میں آنے کے بعد دیکھا گیا ہے کہ وقتی طور پر امدادی سرگرمیاں رک جاتی ہیں، سکیورٹی سخت کر دی جاتی ہے، تمام اہم سرکاری اور غیرسرکاری اہلکار استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں اور متاثرین اپنے چھوٹے موٹے مسائل لیے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

متاثرین کو ان دوروں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا

بالاکوٹ کے عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ ان دوروں سے فائدہ ہونے کے ساتھ لوگوں کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

وادی کاغان میں راجوال کے محمد مسکین نے پہلے ہی اعلی اہلکاروں تک رسائی ناممکن ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ’فوجی سپاہی میجر یا کپتان سے ملنے نہیں دیتے اور باہر روک لیتے ہیں پھر ہمارے مسائل کیسے حل ہونگے۔ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری بات کریں تو وہ ڈانٹتے ہیں عزت دار تو بات کرنے سے کتراتا ہے۔ ہمارے مسائل تو میجر یا کپتان ہی حل کرسکتے ہیں یہ سپاہی تو نہیں‘۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد کسی اعلی اہلکار کی آمد پر حفاظتی ڈیوٹی پر لگ جاتی ہے تاہم بالاکوٹ کے ڈی ایس پی خالد خان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے انہیں اضافی نفری مہیا کی گئی ہے۔

خالد خان نے بتایا کہ انہیں زلزلے کے بعد پشاور سے اضافی نفری ملی تھی۔’دو تین پلاٹونیں ملی تھیں کچھ ایف سی کی نفری ہمارے ساتھ کام کر رہی ہے۔روزانہ کا ہمارا معمول اس لیے متاثر نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس اضافی نفری موجود ہے‘۔

زلزلے سے بری طرح متاثر مانسہرہ کے ناظم سردار محمد یوسف اہم شخصیات کے دوروں کا دفاع کرتے ہیں۔ ان سے گفتگو مانسہرہ میں ایک عارضی ہسپتال کے افتتاح کے لیے وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی کی آمد کے لیے انتظار کے دوران ہوئی۔ ان کے علاوہ مانسہرہ کے ضلعی رابطہ افسر، صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے اہم اہلکار تقریبا ایک گھنٹے سے کھڑے تھے۔

سردار یوسف کا کہنا تھا کہ ’یہ تو چند لوگوں کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے لیکن ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اگر صدر یا وزیر اعظم یا وزیراعلی آئیں تو امدادی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے بلکہ جہاں کوئی کمی بیشی ہو تو وہ بھی دور ہوجاتی ہے‘۔

اہم شخصیات کے دوروں کے دوران بھی عام آدمی کی پہنچ ان تک نہیں ہو پاتی۔

انہوں نے ان دوروں کے فائدے کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے حالیہ دورے میں مانسہرہ کے اردگرد دس کلومیٹر کے علاقے میں قدرتی گیس کی رسائی کا اعلان موقع پر کیا جس کے لیے شاید انہیں اسلام آباد کے کئی چکر لاگانے پڑتے۔ ’یہاں آنے سے وزیراعظم کی توجہ صرف اس خطے پر مرکوز ہوئی ہے اور وہ صرف ہماری بات سنتے ہیں۔’

ایسی مصیبت کی گھڑی میں اکثر لوگ توقع کرتے ہیں کہ اعلیٰ حکومتی اہلکار آکر ان کی داد رسی کریں گے۔ ان کے نہ آنے پر بھی کئی لوگوں کو شکایت کا موقع ملتا ہے۔

اس سلسلے میں وزیر اعلی سرحد پر کئی مرتبہ تنقید ہوئی کہ وہ صرف وزیر اعظم کے ساتھ کسی متاثرہ علاقے میں آئے تو آئے ویسے نہیں۔

وی وی آئی پیز کے دوروں کا فائدہ جو بھی ہو ان تک عام آدمی کی پہنچ اس دوران بھی نہیں ہو پاتی۔ ہاں متاثرین یا عام آدمی کی ضرورت اخبارات میں تصاویر شائع کرنے کے لیے ضرور رہتی ہے۔

66متاثرین کے لیے مظاہرہ
حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں
66دو ماہ بعد
بحالی کے خواب کو میں شائد سالوں لگیں
اسی بارے میں
زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال
08 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد