کیا کریں آنسو نہیں تھمتے: متاثرین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں پر غم اور افسردگی کی کیفیت دو ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود قائم ہے لیکن ایک مقام ایسا ہے جہاں آج بھی لوگ اپنے پیاروں کو یاد کر کے روتے سسکیاں لیتے نظر آتے ہیں۔ یہ مقام ہے بالا کوٹ کے قریب بھمپھوڑا گاؤں کا قبرستان جہاں قبروں پر تازہ پھول اور دعا کرتی عورتیں ضرور دیکھائی دیتی ہیں۔
اس پہاڑی علاقے کے قبرسستان اکثر چھوٹے چھوٹے چند درجن قبروں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ قبروں پر نئے سنگ مرمر کے قطبوں پر سب کی تاریخ وفات آٹھ اکتوبر ہی ہے۔ جب قطبوں پر اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ایسے شعروں کا بھی سہارا لیا گیا ہے۔ پھول بن کر آیا تھا دنیا میں کھلنے کے لیے بالاکوٹ کے ایک گاؤں بھم پھوڑا کے محمد اشرف اپنی اہل خانہ کے ساتھ ایسے ہی ایک قبرستان میں ایک تازہ قبر پر دعا کرتے نظر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سب قبریں نئی بنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑک کنارے اس قبرستان میں آٹھ اکتوبر سے پہلے گنجائش بھی نہیں تھی۔ پرانا قبرستان اسی برس قدیم تھا۔ کئی جگہ پر اسے برابر کر کے ایک قبر کے اوپر دوسری بنائی گئی ہے۔ بلکہ محمد اشرف کے بقول جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بعض قبروں میں دو دو افراد کو بھی دفن کیا گیا۔ اس سوال پر کہ کیا کسی دوسرے مقام پر لاشیں دفنائی نہیں جا سکتی تھیں۔ اشرف کا کہنا تھا کہ اس وقت کہیں اور جانے کی حالت ہی نہیں تھی۔ یہ چونکہ سڑک کے قریب تھا لہذا زیادہ یہیں دفنا دیے گئے۔ ’اگر میاں فوت ہوا تو بیوی نے قبر کھودی تھی۔ اتنے مشکل حالات تھے‘۔ لوگ اب بھی ان قبروں پر آتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں، دل ہلکا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اشرف نے بتایا کہ ان کے لیے تو اب یہ مصروفیت ہی رہ گئی ہے۔ ’کیا کریں ہمارے تو گھر کے گھر خالی ہوگئے‘۔ وہیں ایک قبر پر دعا پڑھنے والی شمیم سے دریافت کیا کس کی قبر پر آئی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ یہ قبر اس کے سولہ سالہ بھتیجے کی ہے۔ وہ ہائی سکول میں جان کھو بیٹھا جسے زلزلے کے تیسرے دن دفنایا گیا۔
انہوں نے کہا ایک دو روز کے وقفے سے باقاعدگی سے آتی ہیں۔ ’پھول لانے اور رونے کے علاوہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔’ پینسٹھ سالہ خانم جان بھی قریب میں اپنے پوتے کی قبر کے قریب نڈہال بیٹھی نظر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبر پر وہ اور کچھ نہیں اللہ کو ہی یاد کرتی ہیں۔ اللہ کو یاد کرنے کے سوا ان دکھیاروں کے پاس دوسرا کوئی راستہ بھی تو نہیں۔ آٹھ اکتوبر ان کے دلوں میں ایسا درد چھوڑ گیا جس کی شدت میں تو شاید وقت کے ساتھ کمی آ جائے لیکن جو ختم نہیں ہوگا۔ |
اسی بارے میں آڈیو، ویڈیو زلزلہ08 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین10 December, 2005 | پاکستان جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ13 December, 2005 | پاکستان کھیل کے میدان بھی زلزلہ کی نذر16 December, 2005 | پاکستان پشاور:زلزلہ زدگان کی اجتماعی شادی17 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: انتخابی شیڈول کا اعلان21 December, 2005 | پاکستان زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟21 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||