BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قبر بن جائے مجھے بھی سکون ملے‘

آسیہ میر
صرف اتنی سی خواہش ہے کہ میری بیٹی کو اپنی مٹی نصیب ہو: آسیہ میر
آسیہ رفیق میر نے زلزلے میں اپنے شوہر کو کھو دیا اور ان کی تین سالہ اکلوتی بیٹی زلزلے کے تین ماہ بعد بھی ملبے تلے دفن ہے۔ ماں اپنی بیٹی کی لاش کے لیے پچھلے تین ماہ سے چیخ رہی ہیں لیکن ان کی چیخیں شاید دنیا کے شور میں کہیں دفن ہو چکی ہیں۔

سات اکتوبر تک شہر مظفرآباد کے مشہور خواجہ محلہ میں آسیہ اپنے شوہر اور اکلوتی بیٹی کے ساتھ بہت خوش تھیں۔ آسیہ پیشے سے استاد ہیں اور وہ مظفرآباد سے کوئی بیس کلومیڑ کے فاصلے پر دریائے جہلم کے کنارے گھڑی دوپٹہ میں تعینات ہیں۔ آٹھ اکتوبر کی صبح بھی وہ حسبِ معمول اسکول کے لیے روانہ ہوگئیں جبکہ ان کے شوہر اور بیٹی گھر پر ہی تھے۔ پونے نو بجے زمین ہلی ۔آسیہ اور دیگر استانیاں اور بیشتر بچیاں اسکول کی عمارت سے باہر نکل آئے لیکن اٹھارہ بچیاں اسکول کی عمارت کے نیچے دب کر ہلاک ہوگئیں اور دو استانیاں واپس مظفرآباد آتے ہوئے دریائے جہلم کی نذر ہوگئیں۔ آسیہ یہ سمجھتی رہیں کہ تباہی صرف گھڑی دوپٹہ میں ہی آئی کیوں کہ وہاں لوگوں کے کچے گھر تھے۔

آسیہ مظفرآباد کی طرف پیدل روانہ ہوئیں کیوں کہ سڑکیں بند ہوگئیں تھیں جب وہ شہر کے قریب پہنچیں تو انہیں یہ احساس ہوا کہ وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

 جب میں اس ملبے کے ڈھیر پر جاتی ہوں تو مجھے سکون ملتا ہے کیونکہ میری بیٹی وہیں ہے۔ میری بیٹی ملبے کی نیچے آئی ہوگی تو اس نے ایک بار تو ماں کو پکارا ہوگا
آسیہ میر

اس وقت بھی ان کا خیال تھا کہ گھر والے سلامت ہوں گے لیکن بقول آسیہ ’جب میں اپنے خواجہ محلہ میں گھر کے قریب پہنچی تو میری ملاقات چچا کے بیٹے سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتا دیا کہ میری بیٹی ، شوہر ، چار دیور ، ساس اور میری نند سب مر چکے ہیں۔ میرے شوہر کو زندہ نکالا لیا گیا تھا لیکن وہ کچھ دیر بعد چل بسے اور میری بیٹی کے سوا سب کی لاشیں نکال لی گئیں‘۔

آسیہ کہتی ہیں کہ’میرے اسکول جانے کے بعد میری تین سالہ بیٹی روزانہ اپنے ابو یا ملازمہ کے ہمراہ نانی کے گھر جاتی تھی جن کا گھر دوسری گلی میں ہے۔ ہمسائے کہتے ہیں کہ وہ نانی کے گھر کے قریب پہنچ چکی تھی کہ ایک دیوار گری جس کی زد میں میری بیٹی اور ملازمہ آگئیں ۔ ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی ملازمہ نے آواز دی کہ ہم زندہ ہیں اور میرے ساتھ چھوٹی بچی بھی ہے اور ہم دیوار کے نیچے ہیں۔ جونہی ہمسائے ان کو نکالنے کے لئے آگے بڑھے کہ چار منزلہ گھر نیچے گر گیا اور اس کی ساتھ ہی ان کی آواز ختم ہوگئی یہ ملبہ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی بھی کوشش کرتا تو نہ نکال پاتا‘۔

مظفر آباد میں زلزلے سے تباہ شدہ عمارتیں

آسیہ کا کہنا ہے کہ ’جب میں اس ملبے کے ڈھیر پر جاتی ہوں تو مجھے سکون ملتا ہے کیونکہ میری بیٹی وہیں ہے۔ میری بیٹی ملبے کی نیچے آئی ہوگی تو اس نے ایک بار تو ماں کو پکارا ہوگا‘۔ یہ کہتے ہوئے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

خواجہ محلہ جہاں آسیہ رہتی تھیں زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یہاں بیشتر گھر ملبے کا ڈھیر ہیں اور یہ ملبہ ابھی تک ہٹایا نہیں گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے جیسے اس محلہ کو چھوڑ ہی دیا ہو۔ جو ں جوں ملبہ اٹھایا جاتا ہے کوئی نہ کوئی لاش نکل آتی ہے ۔آسیہ کے عزیزوں نےان کی بیٹی کی لاش ملبے سے نکالنے کی بہت کوششیں کیں لیکن ملبہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ بالکل بے بس ہیں ۔ اسے بھاری مشینری کے ذریعے ہی ہٹایا جاسکتا ہے۔ آسیہ نے فوجی حکام اور مقامی سیاسی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا لیکن بے سود۔

ان کا کہنا ہے کہ’ جس ٹھیکیدار کو گلیوں کا ملبہ اٹھانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے اس نے اپنی گلی چوبیس گھنٹوں میں صاف کردی لیکن جس گلی میں میری بیٹی دفن ہے اس گلی کا ملبہ ابھی تک نہیں ہٹایا گیا اور ہمیں کہا جاتا ہے کہ ملبہ زیادہ ہے۔ میری طرح نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو ملبے کے نیچے دفن اپنوں کی لاشیں نکلنے کا انتظار کرتے ہوں گے اور بے بس ہوکر خاموش ہیں‘۔

آسیہ نے کہا کہ’جس رفتار سے یہ ملبہ ہٹایا جارہا ہے اس طرح میرے خیال میں سال سے بھی زیادہ لگے گا۔ میری صرف اتنی سی خواہش ہے کہ میری بیٹی کو اپنی مٹی نصیب ہو۔ ایک قبر بن جائے مجھے بھی سکون مل جائے کہ وہ ایک جگہ پر ہے ورنہ مر کر بھی مجھے سکون نصیب نہیں ہوگا‘۔

ملبے کا کیا ہو گا؟
ہر جگہ ملبے کے ڈھیر مگر ڈمپنگ گراؤنڈ کوئی نہیں
مظفرآباد کی نئی پریشانی
مظفرآباد کے لوگ شہر دوبارہ بسانے سے گریزاں
تصویروں میں
مظفرآباد میں زلزلے سے تباہی اور ہلاکتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد