زلزلہ: امدادی پروازیں منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں بارش، برفباری اور شدید ابر آلود موسم کے باعث اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے فضائی امدادی پروازیں منسوخ کر دی ہیں جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ زدہ علاقوں میں اگلے چار سے پانچ روز تک بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان بین میلور کے مطابق تمام ہیلی کاپٹرز کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق تمام زلزلہ زدہ علاقے گہرے بادلوں کی لپیٹ میں ہیں اور صوبہ سرحد کے کئی علاقوں میں برفباری اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں میں بارش اور برفباری شروع ہو چکی ہے۔ اب تک بالا کوٹ میں پندرہ اور مظفرآباد میں بارہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ سنیچر کو شروع ہونے والا بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے چار سے پانچ روز تک جاری رہے گا۔ امدادی ایجنسیوں کے مطابق بارش اور برف باری سے زلزلہ زدگان جو خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ان کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا اور خصوصا بچوں اور خواتین میں گلے اور سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بھی ہے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندوں نے کہا ہے کہ اس وقت زلزلے سے متاثر ہونے والے سولہ لاکھ بچوں کو سخت سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ کے امدادی کاموں کے رابطہ کار جان وینڈ مورٹیل اور دیگر اہلکاروں نے کل اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی تھی۔ جان وینڈ مورٹیل نے بتایا کہ پہلے ان کی توجہ پانچ ہزار فٹ یا اس سے زیادہ کی بلندی پر رہنے والے لوگوں کے طرف تھی لیکن اب وہ اپنی توجہ بکھرے ہوئے ایک سو کیمپوں کی طرف موڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر منصوبہ بندی کے قائم کردہ ان خودرو کیمپوں میں دو لاکھ زلزلہ زدگان رہائش پذیر ہیں اور انہیں سردی سے بچانے کے فوری انتظامات کرنے ہوں گے۔ ایک سوال پر یونیسیف کے نمائندے عمر عابدی نے بتایا کے ان کے محتاط اندازے کے مطابق زلزلے کی وجہ سے یتیم ہونے والے بچوں کی تعداد دس سے پندرہ ہزار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق برفباری اور بارش کے نئے سلسلے کی وجہ سردی میں اضافہ ہوگا اور توقع ہے کہ پہاڑوں سے نیچے آنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور اس خدشے کے پیش نظر انہوں نے ساٹھ ہزار افراد کی گنجائش والے کیمپ کا بھی انتظام کرلیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندو ں نے بتایا کہ پینتیس لاکھ زلزلہ زدہ افراد جن میں سولہ لاکھ بچے بھی شامل ہیں، ان میں سے کئی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ لیکن ان کے مطابق تاحال وبائی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ سردی کی نئی لہر سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ موجود ہے اور اسے روکنے کے لیے کڑی نگرانی اور مطلوبہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ عالمی ادارہ خوراک کے نمائندے فلپ کلارک نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ دس لاکھ متاثرین کو مستقل خوراک پہنچانے کا ذمہ دار ہے اور روزانہ دس ہزار ٹن خوراک مختلف علاقوں تک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد بارشیں، جشن شندور منسوخ01 July, 2005 | پاکستان تیز بارش، امدادی کارروائیاں متاثر08 October, 2005 | پاکستان بارش تھم گئی، فضائی آپریشن بحال11 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||