تیز بارش اور برفباری کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں شدید سردی کی ایک اور لہر سنیچر چودہ جنوری سے شروع ہونے والی ہے جوکہ ایک ہفتہ جاری رہے گی۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر قمر الزمان چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر بارش اور برفباری ہونے کا امکان ہے اور اس سے سردی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب، سرحد اور بلوچستان کے شمالی حصے میں چودہ جنوری سے انیس جنوری تک وقفے وقفے سے بارشیں بھی ہوں گی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو کشمیر اور صوبہ سرحد کے اٹھائیس ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر ہزاروں مکانات، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دفاتر وغیرہ متاثر ہوئے تھے۔ جس سے حکام کے مطابق ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور اس بھی زیادہ تعداد میں لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ زلزلے سے تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں ہونے والی بارشوں اور برفباری سے جہاں خیمے گر گئے تھے وہاں خیمہ بستیوں میں کیچڑ ہوگئی تھی۔ امدادی کام کرنے والے اداروں کے مطابق سخت سردی کی وجہ سے کئی افراد ہلاک اور بیماریوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اس دوران حکومت کا دعویٰ رہا کہ انہوں نے سینکڑوں افراد کو جستی چادریں فراہم کیں اور پچیس ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے گرے ہوئے مکانوں میں کم از کم ایک کمرہ تعمیر کرنے کے لیے معاوضہ بھی تقسیم کرچکی ہے۔ زلزلہ زدہ علاقوں کے بعض پہاڑوں پر چار سے چھ فٹ پہلے ہی برف موجود ہے اور ان علاقوں میں درجہ حرارت منفی دس کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والی برفباری اور تیز بارشوں سے سردی میں اضافے سے جہاں ہلاکتوں کا خدشہ ہے وہاں بیماریاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||